انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 126

احمدبیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ بلکہ پچاس پچاس کروڑ روپیہ سرمایہ رکھتے ہیں اور جو درمیانی طبقہ کہلاتا ہے وہ بھی ایسا ہوتا ہے جس کے ہر فرد کی دو تین ہزار روپیہ آمد ہوتی ہے اور غریب مزدور بھی وہاں سو سے تین سور و پیر تک کماتا ہے مگر تمہارے گاؤں کے مزدور کو تو صرف تین چار روپیہ مہینہ پڑتا ہے پس یہ کھیلیں تمہارے لئے موزوں نہیں یہ تو یورپ کے مالدار لوگوں نے اپنے بچوں کے لئے بنائی تھیں تا کہ وہ دوسرے لوگوں سے ملیں نہیں کہتے ہیں اس سے کیریکٹر بنتا ہے اور امیرانہ اخلاق پیدا ہوتے ہیں لیکن ہمارے لوگوں نے بندر کی طرح ان کی نقل کرنا شروع کر دی اور اس بات کو سمجھا ہی نہیں کہ یہ کھیلیں امیر اور غریب میں تفرقہ ڈالنے والی ہیں اور طالب علم کا دماغ بالکل خراب کر دیتی اور اسے بالکل پاگل بنا دیتی ہیں۔وہی طالب علم جو گاؤں کا رہنے والا ہوتا ہے کالج میں تعلیم حاصل کر کے اپنے آپ کو کوئی الگ مخلوق سمجھنے لگ جاتا ہے اور جب اپنے گاؤں میں واپس جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ لڑ کے گلی ڈنڈا کھیل رہے ہیں یا اپنے پڑدادا کے زمانے کا سوت لے کر اُس کا کھڈول انہوں نے بنایا ہوا ہے اور درخت کی لکڑی کاٹ کر اُس کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو وہ ناک بھوں چڑھا لیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں کس وحشی ملک میں آ گیا ہوں حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جو کھیلیں گاؤں کے لوگ کھیلتے ہیں وہی اصلی کھیلیں ہیں اور ان سے بڑھ کر کوئی کھیل نہیں۔ابھی میں پچھلے دنوں ایک دن سیر کے لئے دریا پر گیا تو ایک گاؤں سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ دولڑکوں کے ہاتھ میں درخت کی چھڑیاں ہیں اور وہ ایک کھڈو کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔وہ کھیلتے کھیلتے روڑیوں پر بھی چلے جاتے تھے، کھیتوں میں بھی گھس جاتے تھے وٹوں میں بھی دوڑتے پھرتے تھے اور ایک اِدھر سے اس کھڈو کو سوٹی مارتا تھا اور ایک اُدھر سے۔میں نے دیکھا تو کہا یہ وہ کھیل ہے جس میں سارا پھیرو چیچی شامل ہو سکتا ہے، جس میں سارا لا ہور شامل ہو سکتا ہے اور جس کے لئے کسی خاص فیلڈ کی ضرورت نہیں جہاں زمین نظر آئی کھڈو پھینکا اور کھیلنا شروع کر دیا یہ کھیلیں ہیں جو ہمارے ملک کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور یہی کھیلیں خدام الاحمدیہ کو کھیلنی چاہئیں۔میں جانتا ہوں کہ ٹوپیوں والے اس پر اعتراض کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شہروں میں رہ کر ہندوستانی نہیں رہے۔ان کی شکلیں بے شک ہندوستانیوں کی ہیں، ان کا رنگ بے شک ہندوستانیوں کا ہے، ان کی زبان بے شک ہندوستانیوں کی ہے، ان کے ماں باپ بے شک ہندوستانی ہیں اور ان کی بیویاں بے شک ہندوستانی ہیں مگر ان کے اندر انگریزی خون کی ایسی پرکاری بھر دی گئی ہے کہ اب وہ ہندوستانیوں کی نہیں بلکہ یوروپین لوگوں کی نقل کرنا باعث فخر سمجھتے