انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 106

انوار العلوم جلد ۱۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن کا صحیح نمونہ پیش کرنے کیلئے قائم کی گئی ہے تقریر فرموده ۶ / فروری ۱۹۴۱ء بر موقع سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ قادیان) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میرا دل تو آج چاہتا تھا کہ میں بہت سی باتیں اس اجتماع میں کہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت پرسوں سے میری آواز بیٹھتی چلی جارہی ہے اور آج تو ایسی بیٹھی ہوئی ہے اور گلا ایسا ماؤف ہے کہ اگر میں زیادہ دیر تک تقریر کروں تو ممکن ہے گلے کو کوئی مستقل نقصان پہنچ جائے اور مجھے اس بات کا ذاتی تجربہ بھی ہے میری آواز پہلے بہت بلند ہوا کرتی تھی ایسی بلند کہ بعض دوستوں نے بتایا کہ چھوٹی مسجد میں ہم نے آپ کی قراءت سن کر اور سمجھ کر مدرسہ احمدیہ میں نماز پڑھی ہے۔یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔مگر ایک دفعہ میرا اسی طرح گلا بیٹھا ہوا تھا کہ میں اپنے ایک عزیز کے ہاں گیا۔اُس نے کہا کہ آپ قرآن بہت اچھا پڑھتے ہیں میں گراموفون میں ریکارڈ بھروانا چاہتا ہوں آپ کسی سورۃ کی تلاوت کر دیں۔میں نے معذرت کی کہ مجھے نزلہ وزکام ہے اور گلا بیٹھا ہوا ہے مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ میں تو آج اس غرض کے لئے تیار ہو کر بیٹھا ہوں۔چنانچہ میں نے سورہ فاتحہ یا کوئی اور سورۃ ( مجھے اس وقت صحیح طور پر یاد نہیں رہا) ریکارڈ میں بھروا دی۔اس کے بعد میری آواز جو بیٹھی ہوئی تھی وہ تو درست ہو گئی مگر آواز کی بلندی میں قریباً ۲۵ فیصد کی ہمیشہ کے لئے کمی آ گئی۔تو ایسی حالت میں زیادہ بولنا بہت دفعہ مُضر ہوتا ہے۔کھانسی کی حالت میں تو میں کافی تقریر کر لیا کرتا اور اس کی میں چنداں پر واہ