انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 86

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو قلعہ کے مشابہہ ہے کیونکہ اس کی غرض یہ بتائی گئی ہے کہ: - (1) لوگ اس میں جمع ہوں اور تمدن انسانی ترقی کرے۔(۲) وہ بنی نوع انسان کو بیرونی ناجائز دخل اندازی سے محفوظ رکھے۔(۳) دنیا کے امن کا ذریعہ ہو اور اس کی توپوں سے ارد گرد کے علاقوں کی بھی حفاظت کی جائے۔(۴) اس کے ذریعہ سے انسانی تمدن کی چھت کو گرنے سے بچایا جائے۔(۵) اس کے ذریعہ سے انسانی صحیح نظام کو درست رکھا جائے۔(1) اس کے ذریعہ سے انسان کی خبر گیری کی جائے اور مصیبتوں سے اسے بچایا جائے۔اعلیٰ درجہ کے قلعوں کی گیارہ خصوصیات پیشتر اس کے کہ میں یہ دیکھتا کہ آیا یہ کام اس قلعہ کے پورے ہوئے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا آؤ میں مقابلہ کروں کہ لوگ قلعے رکن جگہوں پر بناتے ہیں اور کن امور کو اُن کے بنانے میں مد نظر رکھتے ہیں تا کہ میں فیصلہ کر سکوں کہ آیا یہ قلعہ ان امور کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے اور ظاہری سامانوں کے لحاظ سے قلعہ کی اغراض کو پورا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں؟ جب میں نے سوچا اور دنیا کے مشہور قلعوں کی تاریخ پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اچھے قلعوں کی تعمیر میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جاتا ہے۔(۱) قلعے ایسی جگہ بنائے جاتے ہیں جہاں پانی کا با فراغت انتظام ہو تا کہ اگر کبھی محاصرہ ہو جائے تو لوگ پیاسے نہ مر جائیں۔(۲) دوسری بات میں نے یہ دیکھی کہ جہاں نہر ، دریا یا سمندر ہو وہیں قلعے بنائے جاتے ہیں چنانچہ فتح پور سیکری کا قلعہ موسی ندی کے پاس ہے۔اسی طرح دتی کا قلعہ جمنا کے کنارے واقعہ ہے پس قلعے بالعموم یا تو سمندر کے کنارے بنائے جاتے ہیں یا دریاؤں اور نہروں کے پاس بنائے جاتے ہیں۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تو نہانے دھونے کی ضرورت بآسانی پوری ہوسکتی ہے۔دوسرے جانوروں کے لئے بھی بافراغت پانی میسر آسکتا ہے۔تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں محاصرہ مکمل نہیں ہو سکتا کیونکہ کشتیوں کے ذریعہ انسان باہر نکل سکتا ہے اسی طرح رسد وغیرہ قلعہ والوں کو دریا کے رستے پہنچ سکتی ہے۔پھر اس ذریعہ سے آگ بجھائی جاسکتی ہے۔خندقیں پُر کی جاسکتی ہیں اور ذرائع رسل ورسائل کُھلے رہ سکتے ہیں۔(۳) تیسری بات میں نے یہ دیکھی کہ لوگ قلعہ بناتے وقت اس امر کا خیال رکھتے ہیں کہ