انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 78

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ نے دیکھ لیا اور وہ غصہ میں آکر اُس یہودی کو گالیاں دینے لگ گئی۔اتفاقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اُس کی آواز کو سن لیا اور جب دریافت کرنے پر اُس نے بتایا کہ وہ یہودی بستر میں پاخانہ پھر کر چلا گیا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا پانی لاؤ میں خود دھو دیتا ہوں چنانچہ وہ پانی لائی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر کو صاف کرنا شروع کر دیا۔اسی دوران میں یہودی اپنی بھولی ہوئی چیز لینے کے لئے آ گیا۔جب وہ قریب آیا تو اُس نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بستر کو دھو رہے ہیں اور اُس خادمہ سے کہہ رہے ہیں کہ چُپ چُپ ! گالیاں مت دو۔اگر یہ بات پھیل گئی تو وہ شخص شرمندہ ہو گا۔اس بات کا اُس یہودی کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ اُسی وقت مسلمان ہو گیا۔تو ضیافت میں مسلمانوں نے کمال کر دکھایا تھا اور مسلمانوں کے گھر مسجدیں بن گئے تھے جس طرح مسجد میں مہمان آ کر ٹھہرتے ہیں اسی طرح ان کے دروازے ہر وقت مہمانوں کیلئے کھلے رہتے۔اسی بناء پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر قصبہ پر تین دن کی ضیافت فرض ہے اور اگر کسی گاؤں کے رہنے والے اس فرض کو ادا نہ کریں تو اُن سے تین دن تک زبر دستی دعوت لینے کی اجازت ہے اسے بلکہ اس حکم کا مسلمانوں پر اتنا اثر تھا کہ ایک صوفی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ کماتے نہیں تھے ایک دفعہ کسی دوسرے بزرگ نے انہیں نصیحت کی کہ یہ عادت ٹھیک نہیں۔ساری دنیا کماتی ہے آپ کو بھی رزق کے لئے کچھ نہ کچھ جدوجہد کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مہمان اگر اپنی روٹی خود پکائے تو اس میں میزبان کی ہتک ہوتی ہے۔میں خدا کا مہمان ہوں اگر خود کمانے کی کوشش کروں تو اس سے خدا ناراض ہو گا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے آپ خدا کے مہمان ہوں گے مگر آپ کو معلوم ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہمانی صرف تین دن ہوتی ہے۔وہ کہنے لگے یہ تو مجھے بھی معلوم ہے مگر میرے خدا کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے جس دن تین ہزار سال ختم ہو جائیں گے اُس دن میں بھی اس کی مہمانی چھوڑ دونگا۔ذکر الہی اور دین کے لئے قربانی کرنے والوں کا جتھا (۹) نویں بات یہ ہے کہ مساجد کا ایک فائدہ شہریوں کے لئے ہوتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وَالْعَكَفِينَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے۔دوسری جگہ قائِمِینَ کا لفظ آتا ہے اور ان ہر دو کے مفہوم میں شہری ہی داخل ہیں اور شہریوں کو مسجد سے پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ وہاں ہر قسم کے شور وشغب سے محفوظ ہو کر ذکر الہی کرتے