انوارالعلوم (جلد 16) — Page 71
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) قیام امن کے ذرائع اب اسکے مقابل پر میں امن کے ذرائع کو لیتا ہوں ۔ خیر خواہی (۱) پہلا ذریعہ قیام امن کا خیر خواہی ہے ہمارے ملک میں یہ جذبہ اتنا کم ہے کہ جب بھی کوئی افسر بدلتا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا افسر آتا ہے تو وہ پہلے افسر کے کام کے ضرور نقائص نکالتا ہے اگر ڈپٹی کمشنر آتا ہے تو پہلے ڈپٹی کمشنر کا نقص نکالتا ہے، کمشنر آتا ہے تو وہ پہلے کمشنر کے کام کی خرابیاں بتاتا ہے اور اگر جرنیل آتا ہے تو پہلے جرنیل کی سکیموں میں نقص نکالتا ہے مگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے کیسی اعلیٰ تعلیم دی ہے وہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلُ فِي قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ ۔ سچا مسلمان وہ ہوتا ہے کہ جب خدا اسے کسی مقام پر کھڑا کرتا ہے تو پہلے لوگ جو فوت ہو چکے ہوں اُنکے متعلق یہ نہیں کہتا کہ فلاں سے یہ غلطی ہوئی اور فلاں سے وہ غلطی ہوئی بلکہ وہ ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اگر بعض سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو ان کے متعلق دعائیں کرتا رہتا ہے کہ اے میرے رب ! مجھے بھی بخش اور میرے ان بھائیوں کو بھی بخش جو مجھ سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں میں مؤمنوں کا کوئی کینہ نہ رہنے دیجیئو ۔ اے رب! تو بڑا مہربان ہے تو ان پر بھی رافت اور رحم کر اور ہمارے دل میں ان کے متعلق محبت کے جذبات پیدا فرما تا کہ ہم اپنے پیشروؤں کے نقص نکالنے کی بجائے ان کی خوبیوں کو بیان کرنے کے عادی ہوں ۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لَا خِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ۳ کہ کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کی نسبت وہ تمام باتیں نہ چاہے جو وہ اپنی نسبت چاہتا ہے۔ غور کرو کتنی وسیع خیر خواہی ہے جس کی اسلام اپنے ماننے والوں کو تعلیم دیتا ہے۔ مغفرت (۲) امن کے قیام کا دوسرا ذریعہ مغفرت ہے اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے متقی وہ ہوتے ہیں وَالْعَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ جو غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں کے گناہوں کو معاف کرتے ہیں اسی طرح فرماتا ہے خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرُ بِالْعُرْفِ وَاعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ ۱۴ کہ عفو کو اپنی عادت بنالو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تم کبھی کبھا ر کسی کو معاف کر دو بلکہ دوسروں کو معاف کرنا تمہاری عادت میں داخل