انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 51

انوار العلوم جلد ۱۶ ع اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بِاطِلٌ ۳۲ سنو سنو ! خدا کے سوا دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے سیر روحانی (۲) حضرت عثمان اس مصرعہ پر بہت ہی خوش ہوئے اور انہوں نے بڑے جوش سے کہا ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ شاعر نے جس کا نام لبید تھا شور مچا دیا کہ اے مکہ کے لوگو! کیا تم میں اب کسی شریف آدمی کی قدر نہیں رہی ، میں عرب کا باپ ہوں اور یہ گل کا چھو کرا مجھے داد دے رہا ہے اور کہتا ہے ٹھیک کہا ، ٹھیک کہا۔ یہ میری عزت نہیں بلکہ ہتک ہے اور میں اسے کبھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ لبید کے اس اعتراض پر لوگوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور وہ عثمان کو مارنے کیلئے اُٹھے لیکن بعض نے کہا نادان بچہ ہے ایک دفعہ تو اس نے ایسی حرکت کر دی ہے اب آئندہ نہیں کریگا ۔ چنانچہ لوگ خاموش ہو گئے ۔ اس کے بعد لبید نے اسی شعر کا دوسرا مصرعہ پڑھا سے ع وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلٌ ۳۳ ہر نعمت آخر زائل اور تباہ ہو جائے گی۔ اس پر حضرت عثمان بن مظعون پھر بول اُٹھے کہ بالکل غلط ہے، جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہونگی۔ اب تم خود ہی اندازہ لگا سکتے ہو کہ جو شخص ان کی تعریف ناراض ہو ا تھا وہ ان کی تردید پر کس قدر جوش سے بھر گیا ہوگا۔ چنانچہ جب انہوں نے سر مجلس کہہ دیا کہ یہ بات غلط ہے تو اُس نے نظم پڑھنی چھوڑ دی اور کہا کہ میری ہتک کی گئی ہے۔ اس پر بعض نوجوان غصہ سے اُٹھے اور انہوں نے مارنا شروع کر دیا ، ایک نے اس زور سے آپ کی آنکھ پر گھونسہ مارا کہ انگوٹھا اندر دھنس گیا اور آنکھ کا ڈیلا پھٹ گیا۔ وہ رئیس جس نے انہیں اپنی پناہ میں رکھا تھا اُس وقت وہیں موجود تھا اور چونکہ ان کا باپ اُس کا دوست تھا اس لئے عثمان کی تکلیف کو دیکھ کر اُس کے دل میں محبت کا جوش پیدا ہوا۔ لیکن سارے مکہ کے جوش کے مقابل پر اپنے آپ کو بے بس دیکھ کر کمزوروں کی طرح عثمان بن مظعون" پر ہی غصہ نکال کر اپنے دل کو ٹھنڈا کرنا چاہا، چنانچہ غصہ سے انہیں مخاطب کر کے کہا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میری پناہ میں رہو، آخر تمہاری ایک آنکھ لوگوں نے نکال دی۔ حضرت عثمان بن مظعون نے اپنی آنکھ کا خون پونچھتے ہوئے فرمایا، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ سچ کے بدلے میری ایک آنکھ نکل گئی ہے میری تو دوسری آنکھ بھی اسی قسم کے سلوک کا انتظار کر رہی ہے۔ ۴۔ اب دیکھو صحابہ کس طرح ح هُدًى لِّلْعَالَمِينَ ثابت ہوئے وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ حق کے خلاف کوئی بات سُنیں اور اُس کی تردید نہ کریں۔ ایک صحابی سے ایک دفعہ کسی نے کہا کہ آجکل بنوامیہ کی حکومت ہے تم کوئی بات نہ کرو،