انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 44

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) مساجد کی دوسری غرض کا صحابہ کرام کے ذریعہ ظہور (۲) مسجد کی دوسری غرض ایک مقام مبارک کا قیام ہے اور وہ دو طرح ہوتا ہے (الف) اس طرح کہ وہ ذکرِ الہی کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ اس جماعت کے حق میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ذکرِ الہی کے لئے مخصوص ہے چنانچہ فرماتا ہے ۔ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ إِقَامِ الصَّلوةِ وَ ابْتَاءِ الزَّكُوةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَ الْأَبْصَارُ ۔ یعنی خدا کی رحمتیں اور برکتیں اُن گھروں پر نازل ہونگی اَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ جن کے متعلق خدا نے یہ حکم دے دیا ہے دے دیا ہے کہ انہیں اونچا کیا جائے وَ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ اور اُن میں خدا کا نام لیا جائے گویا وہ ذکر الہی کے لحاظ سے بالکل مسجدوں کی طرح ہو جائیں گے اور اس کا موجب ان گھروں میں رہنے والے ہونگے يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيُهِمُ تِجَارَةٌ وَ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ صبح شام ان میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح ایسے لوگ کرتے رہتے ہیں جن کو ہر قسم کی تجارت ملکی ہو یا درآمد برآمد سے تعلق رکھنے والی ہو اسی طرح زمیندارہ، صنعت و حرفت کے کارخانے ذکر الہی سے غافل نہیں کرتے ( اس آیت میں دو لفظ ہیں تجارت اور بیع اور کوئی تجارت بغیر بیع کے نہیں ہو سکتی ۔ پس مراد یہ ہے کہ بعض کاموں میں دونوں جہت یعنی خرید وفروخت سے انسان نفع کماتا ہے وہ تجارت ہے اور بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ کام کرنے والا خرید تا نہیں صرف فروخت کرتا ہے جیسے زمیندار یا صناع ہے کہ جو چیز وہ فروخت کرتا ہے وہ اس کی پیداوار ہے پس اس کا کام در حقیقت فروخت کا ہے خرید کا نہیں اسے تجارت سے الگ بیان کر کے تجارتی کاروبار کی سب قسمیں بیان کر دی ہیں ) گویا کوئی بات بھی انہیں نہ تو نمازوں کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے اور نہ زکوۃ کی ادائیگی سے ان کی توجہ پھراتی ہے۔ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ وہ فقط اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن اُن کے دل اور اُن کی آنکھیں پھری ہوئی ہونگی اور وہ گھبرائے ہوئے اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہونگے ۔ غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس جماعت میں شامل ہوتا ہے وہ ذکرِ الہی کے لئے مخصوص ہو جاتا ہے اور یہی مسجد کا خاص کام ہے پس وہ ایک چلتی پھرتی مسجد بن جاتا ہے ۔