انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 577

۱۰۴ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو پس اے دوستو ! دنیا کا نیا نظام نہ مسٹر چرچل کے بنا سکتے ہیں نہ مسٹر روز ویلٹ سے بنا سکتے ہیں۔یہ اٹلانٹک چارٹر کے دعوے سب ڈھکوسلے ہیں اور اس میں کئی نقائص ، کئی عیوب اور کئی خامیاں ہیں نئے نظام وہی لاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کئے جاتے ہیں جن کے دلوں میں نہ امیر کی دشمنی ہوتی ہے نہ غریب کی بے جا محبت ہوتی ہے ، جو نہ مشرقی ہوتے ہیں نہ مغربی ، وہ خدا تعالیٰ کے پیغامبر ہوتے ہیں اور وہی تعلیم پیش کرتے ہیں جو امن قائم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہوتی ہے پس آج وہی تعلیم امن قائم کرے گی جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آئی ہے اور جس کی بنیاد الوصیۃ کے ذریعہ ۱۹۰۵ء میں رکھ دی گئی ہے۔جماعت کے تمام دوستوں کو ایک نصیحت پس تمام دوستوں کو اس کی اہمیت سمجھنی چاہئے اور ان دلائل کو اچھی طرح یاد رکھ لینا چاہئے جو میں نے پیش کئے ہیں کیونکہ قریباً ہر جگہ ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو بالشوزم کے مداح ہوتے ہیں اسی لئے میں نے بالشوزم کی تحریک کی خوبیاں بھی بتا دی ہیں اور اس کی خامیاں بھی بتا دی ہیں اسی طرح دوسری تحریکات کی خوبیاں اور ان کی خامیاں بھی بتا دی ہیں پس ان پر غور کرو اور تعلیم یافتہ طبقہ سے ان کو محوظ رکھ کر گفتگو کر و۔میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ دلائل ایسے ہیں جن کا کوئی جواب ان تحریکات کے مؤیدین کے پاس نہیں دنیا میں اگر امن قائم ہو سکتا ہے تو اسی ذریعہ سے جس کو آج میں نے بیان کیا ہے۔اسی طرح آج سے اٹھارہ سال پہلے ۱۹۲۴ء میں امنِ عامہ کے قیام کے متعلق خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے کتاب ”احمدیت میں ایک ایسا عظیم الشان انکشاف کیا کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ ایسا عظیم الشان اظہار گزشتہ تیرہ سو سال میں پہلے مفسرین میں سے کسی نے نہیں کیا اور یقیناً وہ ایسی تعلیم ہے کہ گو اس قسم کا دعوی کرنا میری عادت کے خلاف ہے مگر میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ اس قسم کا انکشاف سوائے نبیوں اور ان کے خلیفوں کے آج تک کبھی کسی نے نہیں کیا اگر کیا ہو تو لاؤ مجھے اس کی نظیر دکھاؤ۔،،، وصیت کرنے والا نظام نو کی بنیادرکھنے میں حصہ دار پس اے دوستو ! جنہوں نے وصیت کی ہوئی ہے سمجھ لو کہ آپ لوگوں میں سے جس جس نے اپنی اپنی جگہ وصیت کی ہے اس نے نظام نو کی بنیاد رکھ دی ہے اُس نظام نو کی جو اس کی اور اس کے خاندان کی حفاظت کا بنیادی پتھر ہے اور جس جس