انوارالعلوم (جلد 16) — Page 42
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کا بھی حق ہے حالانکہ اس قسم کے اموال میں ان کا کبھی بھی حصہ نہیں سمجھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ذِی الْقُرُ بی سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ کہہ کر ایک آیت میں ذکر کیا گیا ہے یعنی قرب الہی حاصل کرنے والے لوگ اور وہ درویش جو اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر دیتے ہیں اور ان کے گزارہ کی کوئی معین صورت نہیں ہوتی ۔ گو اسی جماعت میں شامل ہو کر اہلِ بیت ان اموال کے اول حقدار قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے وَ الْيَتمنى ان اموال میں یتامیٰ کا بھی حق ہے اور یتامی بھی غریب ہی ہوتے ہیں وَالْمَسَاكِينِ اسی طرح مسکینوں کا حق ہے وَ ابْنِ السَّبِيلِ اور مسافروں کا بھی حق ہے اور مسافر بعض حالات میں عارضی طور پر ناداروں کی طرح ہو جاتا ہے ۔ آگے فرماتا ہے ہم نے یہ تقسیم اس لئے کی ہے گی لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ تا کہ مال امیروں کے ہاتھوں میں ہی چکر نہ لگا تا رہے بلکہ غریبوں کے پاس بھی جائے اور وہ بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں پس ہم حکم دیتے ہیں کہ یہ اموال غرباء میں تقسیم کئے جائیں تاکہ امراء کے ہاتھوں میں مال چکر نہ کاٹتا رہے ۔ ایک زمیندار دوست کا واقعہ زمیندار بعض دفعہ بات کرتے ہیں تو بڑے پتہ کی کرتے ہیں۔ ایک زمیندار دوست نے سنایا کہ میں ایک دفعہ گورنر صاحب سے ملا اور میں نے اُن سے کہا کہ حضور ایک بات سمجھ میں نہیں آتی اور وہ یہ کہ سرکار بعض دفعہ رعایا پر خوش ہوتی ہے اور سرکا ر ڈ پٹی کمشنر کو لکھتی ہے کہ ڈیڑھ دو سو مربع غرباء میں تقسیم کر دیا جائے ۔ آپ کے ڈپٹی کمشنر غرباء کو تلاش کرتے ہیں تو انہیں کوئی غریب دکھائی ہی نہیں دیتا ، جس گاؤں کو دیکھتے ہیں اُنہیں امیر ہی امیر نظر آتے ہیں ۔ آخر بڑی مشکل سے وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں ملک صاحب کو اتنے مربعے دیدیئے جائیں اور فلاں چوہدری صاحب کو اتنے مربعے دیئے جائیں کیونکہ بھوکے مر رہے ہیں ۔ ملک صاحب کے پاس تو صرف تیں ہزار ایکڑ زمین ہے اور چوہدری صاحب کے پاس بیس ہزار ایکڑ ، اسی طرح کسی کے پاس ۱۵ ہزار ایکڑ زمین ہے اور کسی کے پاس دس ہزار ، اگر ان کو مربعے نہ دیئے گئے تو بیچارے بھوکے مر جائیں گے، چنانچہ سب زمینیں ان میں تقسیم کر دی جاتی ہیں ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جب اعلیٰ سرکاری خدمات سرانجام دینے کے بدلے گورنمنٹ کچھ انعامات تقسیم کرنا چاہتی ہے وہ کہتی ہے کہ اب یہ انعامات اعلیٰ خاندانوں میں تقسیم کئے جائیں ، اس پر پھر ڈ پٹی کمشنر صاحب