انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 569

۹۶ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو پانچویں حصہ کی وصیت کر دے گا تو دس روپے ان کے ہاتھ سے اور نکل جائیں گے اس طرح قومی فنڈ میں اٹھاون فیصدی آ جائے گا اور اس خاندان کے پاس صرف بیالیس فیصدی رہ جائے گا۔غرض وہی مقصد جو بالشوزم کے ماتحت تلوار اور خونریزی سے حاصل کیا جاتا ہے اگر وصیت کا نظام وسیع طور پر جاری ہو جائے تو مقصد بھی حل ہو جائے فساد اور خونریزی بھی نظر نہ آئے ، آپس میں محبت اور پیار بھی رہے، دنیا میں کوئی بھوکا اور ننگا بھی دکھائی نہ دے اور چند نسلوں میں انفرادیت کی روح کو تباہ کئے بغیر قومی فنڈ میں دنیا کی تمام جائدادیں منتقل ہو جائیں۔وصیت کا نظام ملکی نہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی ہوگا پھر نظام کی نہ ہوگا جبکہ بوجہ مذہبی یہ ملکی ہونے کے بین الا قوامی ہوگا۔انگلستان کے سوشلسٹ وہی نظام پسند کرتے ہیں جس کا اثر انگلستان تک محدود ہو، روس کے بالشویک وہی نظام پسند کرتے ہیں جس کا اثر روس تک محدود ہو مگر احمدیت ایک مذہب ہے وہ اس نئے نظام کی طرف روس کو بھی بلاتی ہے، وہ جرمنی کو بھی بلاتی ہے ، وہ انگلستان کو بھی بلاتی ہے ، وہ امریکہ کو بھی بلاتی ہے ، وہ ہالینڈ کو بھی بلاتی ہے، وہ چین اور جاپان کو بھی بلاتی ہے پس جو روپیہ احمدیت کے ذریعہ اکٹھا ہو گا وہ کسی ایک ملک پر خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ ساری دنیا کے غریبوں کے لئے خرچ کیا جائے گا ، وہ ہندوستان کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ چین کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ جاپان کے غرباء کے بھی کام آئے گا ، وہ افریقہ کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ عرب کے غرباء کے بھی کام آئے گا ، وہ انگلستان ، امریکہ، اٹلی ، جرمنی اور روس کے غرباء کے بھی کام آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیش غرض وہ نظام جو دنیوی ہیں وہ قومیت کے جذبہ کو بڑھاتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود کردہ عالمگیر اخوت بڑھانے والا نظام علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ نظام پیش کیا ہے عالمگیر اخوت کو بڑھانے والا ہے۔پھر روس میں تو روس کا باشندہ روس کے لئے جبراً اپنی جائداد دیتا ہے لیکن وصیت کے نظام کے ماتحت ہندوستان کا باشندہ اپنی مرضی سے سب دنیا کے لئے دیتا ہے ، مصر کا باشندہ اپنی مرضی سے اپنی جائداد سب دنیا کے لئے دیتا ہے ، شام کا باشندہ اپنی مرضی سے اپنی جائداد ساری دنیا کے لئے دیتا ہے یہ کتنا نمایاں فرق ہے اسلامی نظام کو اور دُنیوی نظام کو میں ؟