انوارالعلوم (جلد 16) — Page 567
۹۴ انوار العلوم جلد ۱۶ ہمیں تمہارے اموال کی ضرورت نہیں۔نظام کو بالشوزم اور الوصیة کے ذریعہ پھر دیکھو بالشوزم لوگوں سے ان کے اموال جبراً چھینتی ہے مگر آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو لئے ہوئے اموال میں ایک فرق اس کا مال اسے واپس کرد و کیونکہ خدا کسی کے مال کا محتاج نہیں اور خدا کے نزدیک ایسا مال مکروہ اور رو کرنے کے لائق ہے (ضمیمہ شرط نمبر ۱۲) یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے کہ دنیا جس نظام نو کو پیش کرتی ہے اس میں وہ جبر لوگوں سے ان کے اموال چھیتی ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس نظام کو کو پیش فرماتے ہیں اس میں طوعی قربانیوں پر زور دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اس کا مال اسے واپس کر دو کیونکہ ایسا مال مردود ہے اور اس قابل نہیں کہ اسے اپنے پاس رکھا جائے۔بالشوزم کے مقابل الوصیۃ کے ذریعہ ان اصول کو مد نظر رکھ کر دیکھو کہ کس طرح وہی مقصد جسے بالشوزم نے نہایت پُر امن طریقہ سے مقصد کا حصول خون میں ہاتھ رنگ کر ادھورے طور پر پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محبت اور پیار سے اس مقصد کو زیادہ مکمل طور پر پورا کر دیا ہے۔بالشوزم آخر کیا کہتی ہے؟ یہی کہ امیروں سے ان کی جائداد میں چھین لو تا غریبوں پر خرچ کی جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی جائدادیں اسلامی منشاء کے مطابق اور اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق محبت و پیار سے لے لیں اور فرمایا کہ تم سب اپنی اپنی جائدادوں کا کم سے کم دسواں حصہ دو جو تیامی اور مساکین پر خرچ کیا جائے گا اور اشاعت اسلام کا کام اس سے لیا جائے گا۔اس وصیت کے قانون کے مطابق ہر وصیت کرنے والا احمدی اپنی جائداد کا ۱/۱۰ سے ۱/۳ حصہ اپنی مرضی سے اپنے اخروی فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام اور بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے دیتا ہے۔تمام دنیا کے احمدی ہو جانے کی اگر ساری دنیا احمدی ہو جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ساری دنیا سے یہ مطالبہ ہوگا صورت میں عظیم الشان انقلاب کہ خدا تعالیٰ تمہارے ایمانوں کی آزمائش کرنا چاہتا ہے اگر تم سچے مومن ہو، اگر تم جنت کے