انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 41

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ ہیں ، غرباء کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ کے لفظ میں کس طرح شامل ہیں ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِى الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا یعنی ہر چلنے والی چیز جو زمین پر رینگتی یا چلتی ہے اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ اسے رزق پہنچائے۔پس جب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہر جاندار کا رزق ہے تو جاندار ایسے ہیں کہ ان کے لئے رزق کمانے کا طریق خدا تعالیٰ نے جاری کیا ہے اگر وہ رزق نہ کما سکیں تو اللہ تعالیٰ کے خزانہ سے انہیں رزق دینا ہوگا اور سب سے مقدم خزانہ اللہ تعالیٰ کا وہی مال ہے جسے خدا کا مال شریعت نے قرار دیا ہو۔حدیث میں بھی اس آیت کی تشریح دوسرے الفاظ میں آتی ہے لکھا ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونگے تو اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو فرمائے گا کہ تم جنت میں جاؤ کیونکہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا، میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔تب مؤمن حیران ہو کر کہیں گے کہ اے خدا! تو ہم سے ہنسی کرتا ہے، آپ ننگے کب ہو سکتے تھے، آپ بھو کے اور پیاسے کب ہو سکتے تھے کہ ہم آپ کو کپڑے پہناتے ، ہم آپ کو کھانا کھلاتے اور ہم آپ کو پانی پلاتے۔تب خدا تعالیٰ فرمائیگا کہ تم میری بات کو نہیں سمجھے ، جب دُنیا میں کوئی غریب بندہ بھوکا ہوتا تھا اور تم اسے کھانا کھلاتے تھے تو تم اسے کھانا نہیں کھلاتے تھے بلکہ مجھے کھانا کھلاتے تھے اور جب دُنیا میں کوئی غریب آدمی پیا سا ہوتا تھا اور تم اسے پانی پلاتے تھے تو تم اسے پانی نہیں پلاتے تھے بلکہ مجھے پانی پلاتے تھے اور جب دنیا میں کوئی غریب آدمی نگا ہوتا تھا اور تم اسے کپڑے پہناتے تھے تو تم اسے کپڑے نہیں پہناتے تھے بلکہ مجھے کپڑے پہناتے تھے۔۲۲ اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ غریبوں کو دینا اللہ تعالیٰ کو دینا ہے کیونکہ ان کا رزق اللہ تعالی کی ذمہ داریوں میں سے ہے پھر فرماتا ہے۔وَلِلرَّسُولِ ان اموال میں ہمارے رسول کا بھی حصہ ہے اور رسول کے حصہ سے مراد بھی غرباء میں اموال تقسیم کرنا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے کہ آپ اس قسم کے اموال اپنے پاس نہیں رکھا کرتے تھے بلکہ غرباء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ جو ذمہ داریاں خدا تعالی کی ہیں وہی خلقی طور پر رسول کی ہیں اس لئے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی پر جو رقم خرچ ہوگی وہ رسول کو دینا ہی قرار دی جائیگی۔پھر فرماتا ہے وَلِذِي الْقُرُبَى ذِى القربي کا بھی اس میں حق ہے شیعہ لوگ اسکے عام طور پر یہ معنے کرتے ہیں کہ اموال فئے میں رسول کریم