انوارالعلوم (جلد 16) — Page 39
سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ جب شام کی طرف مسلمانوں نے حملے شروع کئے تو یہ اپنے قبیلہ سمیت مسلمان ہو گیا اور حج کے لئے چل پڑا۔حج میں ایک جگہ بہت بڑا ہجوم تھا، اتفاقاً کسی مسلمان کا پاؤں اس کے پاؤں پر پڑ گیا۔بعض روایتوں میں ہے کہ اُس کا پاؤں اُس کے جُبہ کے دامن پر پڑ گیا۔چونکہ وہ اپنے آپ کو ایک بادشاہ سمجھتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ میری قوم کے ساٹھ ہزار آدمی میرے تابع فرمان ہیں، بلکہ بعض تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ ساٹھ ہزار محض اس کے سپاہیوں کی تعداد تھی۔بہر حال جب ایک ننگ دھڑنگ مسلمان کا پیر اُس کے پیر پر آپڑا تو اُس نے غصہ میں آکر زور سے اُسے تھپڑ مار دیا اور کہا تو میری ہتک کرتا ہے تو جانتا نہیں کہ میں کون ہوں، تجھے ادب سے پیچھے ہٹنا چاہئے تھا تو نے گستاخانہ طور پر میرے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھدیا۔وہ مسلمان تو تھپڑ کھا کر خاموش ہو رہا مگر ایک اور مسلمان بول پڑا کہ تجھے پتہ ہے کہ جس مذہب میں تو داخل ہوا ہے وہ اسلام ہے اور اسلام میں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں۔بالخصوص اس گھر میں امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا۔اُس نے کہا میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔اس مسلمان نے کہا کہ عمر کے پاس تمہاری شکایت ہو گئی تو وہ اس مسلمان کا بدلہ تم سے لیں گے۔جبلہ ابن ایہم نے جب سنا تو آگ بگولا ہو کر کہنے لگا کیا کوئی شخص ہے جو جبلہ ابن اہم کے منہ پر تھپڑ مارے۔اس نے کہا کسی اور کا تو مجھے پتہ نہیں مگر عمر تو ایسے ہی ہیں یہ سنکر اُس نے جلدی سے طواف کیا اور سیدھا حضرت عمرؓ کی مجلس میں پہنچا اور پوچھا کہ اگر کوئی بڑا آدمی کسی چھوٹے آدمی کو تھپڑ مار دے تو آپ کیا کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہی کرتے ہیں کہ اس کے منہ پر اس چھوٹے شخص سے تھپڑ مرواتے ہیں۔وہ کہنے لگا آپ میرا مطلب سمجھے نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بہت بڑا آدمی تھپڑ مار دے تو پھر آپ کیا کیا کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسلام میں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں۔پھر آپ نے کہا جبلہ ! کہیں تم ہی تو یہ غلطی نہیں کر بیٹھے ؟ اس پر اُس نے جھوٹ بول دیا اور کہا کہ میں نے تو کسی کو تھپڑ نہیں مارا، میں نے تو صرف ایک بات پوچھی ہے۔مگر وہ اُسی وقت مجلس سے اُٹھا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر اپنے ملک کی طرف بھاگ گیا اور اپنی قوم سمیت مرتد ہو گیا اور مسلمانوں کے خلاف رومی جنگ میں شامل ہوا۔لیکن حضرت عمرؓ نے اس کی پرواہ نہ کی۔۱۸ یہ ہے وہ مساوات جس کی مثال کسی اور قوم میں نہیں ملتی اور یہ ویسی ہی مساوات ہے جیسے مسجد مساوات قائم کیا کرتی ہے۔جس طرح وہاں امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں ہوتا