انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 533

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو مالک کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ مکاتبت میں کسی قسم کی روک پیدا کرے۔مکاتبت کا روکنا صرف اسی صورت میں جائز ہے جبکہ اس میں خیر نہ ہو یعنی جنگ کا خطرہ ہو یا یہ کہ وہ پاگل یا کم عقل ہو اور خود کما نہ سکتا ہو اور خطرہ ہو کہ وہ بجائے فائدے کے نقصان اُٹھائے گا۔مکاتبت کی صورت میں اسلام اسے سرمایہ مہیا کرنے کا بھی حکم دیتا ہے خواہ وہ سرمایہ مالک دے یا حکومت۔قیدیوں کی رہائی کے متعلق اسلام کی انتہائی کوشش پھر مکن ہے کوئی شخص کہہ دے اگر پاگل یا کم عقل والے کی مکاتبت کو روکنا جائز ہے تو پھر لوگ اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کو بے عقل قرار دے کر اپنا غلام بنائے رکھیں گے آزاد تو وہ پھر بھی نہ ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ گورنمنٹ کے پاس درخواست کر سکتا ہے کہ میں صاحب عقل ہوں ، کما سکتا ہوں مگر میرا مالک مجھے جان بوجھ کر غلام بنائے ہوئے ہے ایسی صورت میں قاضی فیصلہ کر کے اسے آزادی کا حق دے دیگا۔غرض کوئی صورت ایسی نہیں جس میں غلاموں کی آزادی کو مد نظر نہ رکھا گیا ہو۔اول مالک کو کہا کہ وہ احسان کر کے چھوڑ دے۔دوم اگر مالک ایسا نہ کر سکے تو غلام کو اختیار دیا کہ وہ تاوانِ جنگ ادا کر کے آزادی حاصل کر لے اور اگر فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو مکاتبت کر لے اور کہہ دے کہ میں اتنی قسطوں میں روپیہ دے دوں گا مجھے دو یا تین سال کی مہلت دے دو۔ایسا معاہدہ کرتے ہی وہ عملاً آزاد سمجھا جائے گا اور اگر ان ساری شرطوں کے باوجود کوئی شخص یہ کہے کہ میں آزاد ہونا نہیں چاہتا تو ماننا پڑے گا کہ اسے اپنی غلامی آزادی سے اچھی معلوم ہوتی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ صحابہ کرام کے پاس جو غلام تھے انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے ماتحت وہ اس عمدگی اور آرام کے ساتھ رکھتے تھے کہ انہیں اپنی آزادی سے صحابہ کی غلامی بہتر معلوم ہوتی تھی۔صحابہ کرام کا غلاموں سے حسن سلوک صحابہ جو کچھ کھاتے وہی انہیں کھلاتے جو کچھ پہنتے وہی ان کو پہناتے ، انہیں بدنی سزا نہ دیتے ، ان سے کوئی ایسا کام نہ لیتے جو وہ کر نہ سکتے ، ان سے کوئی ایسا کام نہ لیتے جس کے کرنے سے وہ خود کراہت کرتے اور اگر لیتے تو کام میں ان کے ساتھ شریک ہوتے اور اگر وہ آزادی کا مطالبہ کرتے تو انہیں فوراً آزادی دے دیتے بشرطیکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر دیں۔ان حالات کو دیکھ کر غلاموں کا جی ہی نہیں چاہتا تھا کہ وہ آزاد ہوں۔وہ جانتے تھے کہ یہاں ۶۰