انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 532

۵۹ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ لا پرواہ یا بدمعاش ہوں اور وہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہے تا کہ وہ اس کی جائداد پر قبضہ کر لیں ، دوسری طرف مالک کی یہ حالت ہو کہ وہ بغیر فدیہ کے آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو کیونکہ بالکل ممکن ہے جو رقم اس نے جنگ میں خرچ کی تھی اس نے اس کی مالی حالت کو خراب کر دیا ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنی رہائی کے لئے کیا صورت اختیار کر سکتا ہے۔اس سوال کا جواب بھی قرآن کریم نے دیا ہے۔فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْ هُمُ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَّاتُوهُم مِّنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِى انكُمْ ۲۴ یعنی وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے تمہارا غلام بنایا ہے اور تمہیں ان پر قبضہ اور تصرف حاصل ہے اگر وہ تم سے کہیں کہ صاحب ہمیں چھڑانے والا کوئی نہیں اور نہ ہمارے پاس دولت ہے کہ ہم فدیہ دے کر رہا ہوسکیں ہم غریب اور نادار ہیں ہم آپ سے یہ شرط کر لیتے ہیں کہ آپ کی رقم دو سال یا تین سال یا چار سال میں ادا کر دیں گے اور اس قدر ماہوار قسط آپ کو ادا کیا کریں گے آپ ہمیں آزاد کر دیں تو فَكَاتِبُو هُمُ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا۔تم اس بات پر مجبور ہو کہ ان کو آزاد کر دو اور ان کے فدیہ کی رقم کی قسطیں مقرر کر لو بشرطیکہ تمہیں معلوم ہو کہ وہ روپیہ کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں بلکہ تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے ان کی مدد کرو۔یعنی انہیں کچھ سرمایہ بھی دے دو تا کہ اس ذریعہ سے وہ روپیہ کما کر اپنا فدیہ ادا کرسکیں۔گویا جس وقت قسطیں مقرر ہو جائیں اُسی وقت سے وہ اپنے اعمال میں ویسا ہی آزاد ہو گا جیسے کوئی دوسرا آزاد شخص اور وہ اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا۔اگر ان تمام صورتوں کے باوجود کوئی شخص پھر بھی غلام رہتا ہے اور آزاد ہونے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود غلام رہنا چاہتا ہے اور اسے غلامی میں مزا آتا ہے۔غرض اسلامی تعلیم کے ماتحت غلام دُنیوی جنگوں میں نہیں بنائے جاتے بلکہ صرف انہی جنگوں میں بنائے جاتے ہیں جو مذہبی ہوں مگر ان غلاموں کے متعلق بھی حکم دیا کہ اول تو احسان کر کے انہیں چھوڑ دو۔اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو فدیہ لے کر رہا کر دو۔یہ ضروری نہیں کہ وہ خود فدیہ دے اس کے رشتہ دار بھی دے سکتے ہیں، حکومت بھی دے سکتی ہے اور اگر گورنمنٹ لا پرواہ ہو، رشتہ دار ظالم ہوں اور وہ غریب ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ آؤ میرے ساتھ طے کر لو کہ مجھ پر کیا تاوانِ جنگ عائد ہوتا ہے اور مجھے اس تاوان کی ادائیگی کے لئے اتنی مہلت دے دو میں اس عرصہ میں اس قدر ماہوار رو پیدا دا کر کے تاوانِ جنگ دے دوں گا۔اس معاہدہ کے معاً بعد وہ آزاد ہو جائے گا اور