انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 531

۵۸ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ ان کی پہلی بیویوں کو بھی ان کے پاس آنے نہیں دیتے کجا یہ کہ خود ان کی شادی کر دیں۔مگر اسلام کہتا ہے جو کچھ خود کھاؤ وہی ان کو کھلا ؤ ، جو کچھ خود پہنو وہی ان کو پہناؤ ، ان میں سے جو شادی کے قابل ہوں ان کی شادی کر دو، ان پر کبھی سختی نہ کرو اور اگر تم کسی وقت انہیں مار بیٹھو تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم انہیں فوراً آزاد کر دو۔پھر کیا آج قیدیوں کو کوئی بھی حکومت یہ اقرار لے کر کہ وہ آئندہ ان کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوں گے چھوڑنے کو تیار ہے؟ یا کیا بغیر تاوانِ جنگ کے کوئی کسی جنگ کرنے والی حکومت کو چھوڑتا ہے؟ اسلام میں فدیہ یعنی تاوانِ جنگ مگر اسلام نے تاوان جنگ کو بھی اتنا نرم کر دیا ہے کہ فرمایا یا تو احسان کر کے چھوڑ دو اور احسان کو مقدم کے ذریعہ جنگی قیدیوں کی رہائی رکھا اور اس کی برداشت نہ ہو تو تاوان جنگ لے کر چھوڑ دو اور فدیہ تاوانِ جنگ کے سوا اور کچھ نہیں ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ پہلے جنگ انفرادی ہوتی تھی اس لئے افراد سے تاوانِ جنگ وصول کیا جاتا تھا مگر اب قومی جنگ ہوتی ہے اس لئے اب طریق یہ ہوگا کہ قوم تا وانِ جنگ ادا کرے۔پہلے چونکہ با قاعدہ فوجیں نہ ہوا کرتی تھیں اور قوم کے افراد پر جنگی اخراجات کی ذمہ داری فرداً فرداً پڑتی تھی اس لئے اُس وقت قیدی رکھنے کا بہترین طریق یہی تھا کہ اُن کو افراد میں تقسیم کر دیا جاتا تھا تا کہ وہ ان سے اپنے اپنے اخراجات جنگ وصول کر لیں۔مگر جب حکومت کی باقاعدہ فوج ہوا اور افراد پر جنگی اخراجات کا بار فردا فردا نہ پڑتا ہو تو اُس وقت جنگی قیدی تقسیم نہ ہوں گے بلکہ حکومت کی تحویل میں رہیں گے اور جب دوسری قوم تاوان جنگ ادا کر دے گی تو پھر ان سے کوئی خدمت نہیں لی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا۔اب بتاؤ جب قیدی کو فدیہ دے کر رہا ہونے کا اختیار ہے تو وہ کیوں فدیہ ادا کر کے اپنے آپ کو رہا نہیں کرا لیتا۔اگر وہ خود فدیہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے رشتہ دار فدیہ دے سکتے ہیں۔اگر وہ بھی فدیہ نہیں دے سکتے تو حکومت فدیہ دے کر اسے رہا کرا سکتی ہے۔بہر حال کوئی صورت ایسی نہیں جس میں اس کی رہائی کا دروازہ کھلا نہ رکھا گیا ہو۔فدیہ نہ دے سکنے والے کی رہائی کی صورت ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ ہو سکتا ہے ایک شخص غریب ہو اور وہ خود فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، گورنمنٹ ظالم ہو اور اسے رہا کرانے کا کوئی احساس نہ ہو، رشتہ دار