انوارالعلوم (جلد 16) — Page 530
۵۷ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو اپنے پیچھے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ آواز سنی کہ تم کیا کرتے ہو یہ جاہلیت کا فعل ہے۔آج کل تو لوگ اپنے نوکروں کو بھی مار لیتے ہیں اور اسے کوئی معیوب بات نہیں سمجھتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام کے مارے جانے پر اس صحابی کو ڈانٹا اور فرمایا تم کیا کرتے ہو جس قدر تمہیں اس غلام پر مقدرت حاصل ہے اس سے کہیں زیادہ خدا تعالیٰ کو تم پر مقتدرت حاصل ہے۔وہ صحابی کہتے ہیں میں یہ آواز سن کر کانپ گیا اور میں نے کہا يَارَسُولَ اللہ ! میں اسے آزاد کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو جہنم میں جاتے۔اسے اسی طرح ایک اور صحابی کہتے ہیں ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک لونڈی تھی ایک دفعہ ہم میں سے سب سے چھوٹے بھائی نے کسی قصور پر اُسے تھپڑ مار دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا اسے تھپڑ مارنے کا جرمانہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اسے آزاد کر دو۔چنانچہ انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔گویا کوئی سخت مار پیٹ نہیں ایک تھپڑ بھی کسی غلام یا لونڈی کو مارنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نا پسند تھا اور آپ اس کا کفارہ صرف ایک ہی چیز بتاتے تھے کہ اسے آزاد کر دیا جائے۔آج کل تو مار مار کر جسم پر نشان ڈال دیتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سونا نہیں اگر تم تھپڑ بھی مار بیٹھتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم غلام رکھنے کے قابل نہیں اور تم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تم اس بات کے اہل نہیں کہ تمہارے ماتحت کسی کو رکھا جا سکے تم اسے فوراً آزاد کر دو۔۲۲ شادی کے قابل جنگی قیدیوں کی شادی پھر فرماتا ہے اگر وہ شادی کے قابل ہوں اور جوان ہوں تو تم ان کی شادی کر دینے کے متعلق اسلامی ہدایت کرد و کیونکہ نہ معلوم وہ کب آزاد ہوں۔چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے وَاَنْكِحُوا الْآيَامى مِنْكُمْ وَ الصَّلِحِيْنَ مِن عِبَادِكُمْ وَ اِمَائِكُم ۲۳ تمہاری لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں ان کے متعلق ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ان کی شادی کر دیا کرو۔اب بتاؤ کیا آجکل کا انٹر نیشنل قانون اس سے زیادہ حسن سلوک سکھاتا ہے۔آجکل تو