انوارالعلوم (جلد 16) — Page 529
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جس سے دشمن کے مقابلہ میں فائدہ اُٹھایا جا سکے تو اس طرح دشمن کی طاقت بڑھ جائے گی کم نہیں ہوگی لیکن اس میں بھی اسلام اور موجودہ حکومتوں کے طریق عمل میں بہت بڑا فرق ہے۔جنگی قیدیوں سے کام لیتے وقت اُن کی طاقت کا خیال رکھنے آجکل جنگی قیدیوں میں سے بڑے بڑے اور اُن کی خوراک و پوشاک کے متعلق اسلامی ہدایات افسروں کو تو کچھ نہیں کہا جاتا لیکن عام قیدیوں سے سختی سے کام لیا جاتا ہے مگر اسلام کہتا ہے (1) تم کسی قیدی سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو(2) دوسرے جو کچھ خود کھاؤ وہی اُس کو کھلاؤ اور جو کچھ خود پہنو وہی اُس کو پہناؤ۔اب ذرا یورپین حکومتیں بتا ئیں تو سہی کہ کیا وہ بھی ایسا ہی کرتی ہیں ؟ کیا انگریز ، جرمن اور جاپانی قیدیوں کو وہی کچھ کھلاتے ہیں جو خود کھاتے ہیں یا جرمن انگریز قیدیوں کو وہی کچھ کھانے کے لئے دیتے ہیں جو خود کھایا کرتے ہیں وہ ایسا ہر گز نہیں کرتے۔مگر اسلام کہتا ہے جو کھانا خود کھاؤ وہی ان کو کھلا ؤ اور جو کپڑا خود پہنو وہی اُن کو پہناؤ۔اس بارہ میں صحابہ اس قدر تعہد سے کام لیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ صحابہ ایک سفر پر جا رہے تھے اور ان کے ساتھ بعض غلام بھی تھے وہ غلام خود روایت کرتے ہیں کہ راستہ میں جب کھجور میں ختم ہونے کو آئیں تو صحابہ نے فیصلہ کیا کہ وہ خود تو گٹھلیوں پر گزارہ کریں گے اور ہمیں کھجور میں کھلائیں گے۔چنانچہ وہ ایسا ہی کرتے رہے اور گٹھلیاں بھی انہیں کافی نہ ملتی تھیں جن سے پیٹ بھر سکتا۔تو یہ حکم جو اسلام نے دیا ہے کہ جو کچھ خود کھاؤ وہی اپنے قیدیوں کو کھلاؤ اس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی صرف صحابہ کرام ہی ہیں جنہوں نے یہ نمونہ دکھایا۔اسلامی تعلیم میں جنگی قیدیوں پر سختی پھر فرماتا ہے انہیں مار پیٹ نہیں اور اگر کوئی شخص انہیں غلطی سے مار بیٹھے تو وہ کرنے اور اُن کو مارنے پیٹنے کی ممانعت غلام جسے مارا گیا ہو اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ ایک صحابی کسی غلام کو مار رہے ہیں یہ صحابی خود بیان کرتے ہیں کہ میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے DY