انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 519

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ناممکن ہے کیونکہ جو بھی پروگرام ہوگا وہ لعنت ہوگا اور اس پر عمل لوگوں کی مشکلات کو بڑھائے گا کم نہیں کرے گا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ اس کے نزدیک خدا کی شریعت خواہ وہ کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو لعنت ہے لیکن بندوں کی تعزیرات خواہ کتنی بڑی ہوں رحمت ہیں۔اس کا نتیجہ یہ پیدا ہوا ہے کہ دنیا میں جو مسیحی قوم بھی غالب ہو اُس کے مقاصد کو مسیحی مقاصد کہا جاتا ہے۔جو فلسفہ غالب آجائے وہ مسیحی فلسفہ ہوتا ہے اور جو تمدن غالب آ جائے وہ مسیحی تمدن ہوتا ہے۔اگر جرمن غالب ہوا تو وہ کہہ دیں گے کہ کرسچن سوشلزم غالب آ گیا۔اگر انگلستان غالب ہوا تو کہہ دیں گے کہ کرسچن سوشلزم غالب ہوا ، اگر یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ والے جیتے تو کہہ دیں گے کہ کرسچن سوشلزم غالب ہوا، گویا وہ ہمیشہ کے لئے غالب کے یار بن گئے ہیں اور جو چیز بھی دنیا میں ترقی کرتی ہے اسے کر سچن سولزیشن (CIVILISATION) کا غلبہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا کہ طلاق نہ دینا مسیحیت کا خاصہ تھا اور اب یہ حالت ہے کہ طلاق دینا مسیحیوں کا خاصہ ہے۔گویا ان کا مذہب کیا ہے موم کی ناک ہے جس طرح چاہو موڑ لو اس نے ٹوٹنا تو ہے ہی نہیں۔پس میسحیت بطور مذہب کے دنیا کے سامنے نہ کوئی پروگرام رکھ سکی نہ رکھ سکتی ہے اور نہ رکھ سکے گی۔ہندو مذہب کے نظریہ کے ماتحت نئے نظام کا قیام ناممکن ہے ہندومت نے دنیا کے سامنے تناسخ اور ورنوں کی تعلیم پیش کر کے اپنے لئے اور دوسری اقوام کے لئے امن کا راستہ بالکل بند کر دیا ہے کیونکہ تناسخ کے ماتحت یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایسا نیا نظام قائم ہو جس میں غریب اور امیر کا فرق جاتا رہے۔جب تناسخ کو ماننے والے تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر ایک شخص کو غریب پیدا کیا ہے تو یہ اس کے پچھلے جنم کے اعمال کی سزا ہے تو اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے امیر اور غریب کے امتیاز کو کس طرح مٹایا جا سکتا ہے۔اس عقیدہ کے ماتحت تو اگر خدا نے کسی کو زار بنایا ہے تو پچھلے جنم کے اعمال کا انعام دینے کے لئے اور اگر کسی کو غریب بنایا ہے تو اسے اس کے اعمال کی سزا دینے کے لئے اب کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے۔پس تناسخ کے ہوتے ہوئے ہندومت دنیا کی ترقی کے لئے کوئی نیا پروگرام پیش نہیں کرسکتا کیونکہ نیا پروگرام وہی ہوسکتا ہے جو موجودہ حالت کو بدل کر ایک نئی حالت پیدا کر دے اور جب دنیا کی موجودہ حالت پُرانے جنم کے اعمال کا اہل نتیجہ ہے تو دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے گا کہ یہی حالت دنیا کے لئے و سوم