انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 489

۱۶ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو غرباء کی حالت سدھارنے کے اس کے بعد ایک شخص کارل مارکس سے پیدا ہوا۔یہ جرمن یہودی النسل تھا مگر مذہباً عیسائی تھا متعلق کارل مارکس کے تین نظریے اس نے اس مسئلہ پر غور کیا اور غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ جو سوشلزم کہہ رہی ہے کہ آہستہ آہستہ اصلاح کی جائے اور امیروں پر دباؤ ڈال کر ان سے مزدوروں اور غرباء کے حق حاصل کئے جائیں اس طرح تو پچاس سو بلکہ ہزار سال میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اصل خرابی یہ ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت ہے وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے پس اس کی اصلاح کا آسان طریق یہ ہے کہ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی جائے۔چنانچہ وہ کہتا ہے یہ کیا طریق ہے کہ اگر حکومت کسی جگہ نہر نہیں نکالتی تو نہر کے لئے اس سے سو سال تک جنگ جاری رکھی جائے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لو اور نہر نکال لو۔یا یہ کیا کہ فلاں کارخانہ میں چونکہ اصلاح نہیں اس لئے حکومت پر اس کے متعلق زور دیا جائے اور برسوں اس پر ضائع کئے جائیں سیدھی بات یہ ہے کہ حکومت ہاتھ میں لو اور تمام مفاسد کا علاج کر لو۔پس مارکس نے یہ اصول رکھا کہ سیاسیات میں پڑے بغیر ہم تمدنی اصلاح نہیں کر سکتے۔جب تک سیاست ہاتھ میں نہ آجائے اور جب تک حکومت کے اختیارات قبضہ میں نہ آجائیں اس وقت تک کوئی سیاسی یا تمدنی اصلاح نہیں ہوسکتی۔مارکسزم اور اس کا پہلا اُصول پس مارکسزم جو انٹر نیشنل سوشلزم کی ایک شاخ ہے جبر کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مؤید ہے اور اقتصادی تغیرات سے آزادی حاصل کرنے کی بجائے سیاسی تغیرات سے آزادی حاصل کرنے کی حامی ہے۔پھر اسی نظریہ کے ساتھ مارکسزم یہ بات بھی پیش کرتی ہے کہ سوشلزم والے اس لئے کامیاب نہیں ہو سکے کہ انہوں نے امیروں سے مل کر کام کرنا شروع کر دیا حالانکہ امیروں کا قبضہ اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے غرباء کو کوئی حق حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔مارکس کے نزدیک ڈیما کریسی کا اصول بالکل غلط ہے اور امیروں اور غریبوں کا میل جول بھی غلط ہے۔اس کے نزدیک امیروں کو ایسا ہی سمجھنا چاہئے کہ گویا وہ انسان نہیں اور جو اختیار غرباء کوملیں وہ انہیں اپنے قبضہ میں لے لیں۔مارکسزم کا دوسرا اُصول دوسرا نظریہ اس نے یہ پیش کیا کہ ہمیں اس غرض کے لئے جبر کرنا چاہئے۔جتھا بناؤ ، حملہ کرو اور حکومت پر قبضہ کر لو۔یہی کارل مارکس