انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 481

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ضمنی طور پر اور منفردانہ طور پر آب تک لوگوں کے سامنے بار بالائی گئی ہیں مگر تحریک جدید کی اہمیت اجتماعی طور پر جماعت کے سامنے نہیں رکھی گئی۔یا یوں کہ لو کہ اس کی حقیقت کو میں خود بھی آہستہ آہستہ سمجھا۔جب میں نے اس کے متعلق پہلا خطبہ پڑھا تو اُس میں تحریک جدید کے متعلق جس قدر باتیں میں نے بیان کیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء میرے دل میں ڈالی گئی تھیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا چلا گیا میں ان باتوں کو بیان کرتا چلا گیا۔پس حق یہ ہے کہ تحریک جدید کی کئی اغراض کو پہلے خود میں بھی نہیں سمجھا اور اس کے کئی فوائد اور حکمتیں میری نظر سے اوجھل رہیں۔اسی وجہ سے تحریک جدید کی اجتماعی لحاظ سے اہمیت اب تک جماعت کے سامنے نہیں رکھی گئی یا ممکن ہے خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہو کہ جب اس مضمون کی ضرورت ہو تب اس پر سے پردہ ہٹایا جائے۔بہر حال اس تحریک کا ایک عالمگیر اثر بھی ہے اور ضروری ہے کہ اس کو تفصیل سے بیان کیا جائے کیونکہ اب تک اس مضمون کو بیان نہیں کیا گیا۔خلاصہ مضمون میں جس مضمون کو اب بیان کرنے لگا ہوں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک جدید جس کا اجرا میری طرف سے ہوا یا صحیح لفظوں میں یوں کہہ لو کہ تحریک جدید جس کا اجرا منشائے الہی کے ماتحت ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان اسلامی مقصد کو پورا کرنے اور انسانیت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کا بیج رکھا گیا ہے۔اب میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس فقرہ کے بعد جو مضمون آئے گا وہ بظاہر اس سے بے تعلق ہوگا اور بظاہر یہ جملہ کہہ کر میں تحریک جدید کی طرف آتا ہوا نظر نہیں آؤں گا لیکن میں دوستوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ صبر سے کام لیں گے اور توجہ سے تمام مضمون کو سنیں گے تو تحریک جدید کا جو ذکر میں نے کیا ہے اس پر انہیں یہ تمام مضمون چسپاں ہوتا دکھائی دے گا۔تحریک جدید کا ماحول دنیا میں جس قدر اشیاء نظر آتی ہیں وہ سب اپنے اپنے ماحول میں اچھی لگتی ہیں۔ماحول سے اگر کسی چیز کو نکال لیا جائے تو اُس کا سارا حسن اور اُس کی ساری خوبصورتی ضائع ہو جاتی ہے پس جب تک میں اس تحریک کا ماحول نہ بیان کرلوں اُس وقت تک اصل حقیقت سے دوست آگاہ نہیں ہو سکتے۔اس ماحول کا بیان کرنا خصوصاً اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ ہماری جماعت میں سے اکثر زمیندار ہیں اور وہ عموماً علمی باتوں سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ میں پہلے دنیا کی وہ حالت بیان کروں جس نے ہمیں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور کیا اور بتاؤں کہ دُنیا میں اس وقت کیا کیا Λ