انوارالعلوم (جلد 16) — Page 477
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو افسر کی طرف سے سزا دی جاتی ہے تو وہ خیال کر لیتے ہیں کہ شاید یہ سلوک کسی مہمان سے کیا جا رہا ہے۔جب بیرونی جماعتوں میں بھی خدام الاحمدیہ منظم ہو جائیں گے تو باہر بھی ہر حلقہ کے قائد خدام کو اخلاقی مجرم سرزد ہونے پر سزا دے لیں گے اور اُس وقت انہیں قادیان میں اس قسم کی سزاؤں کا ملنا کوئی عجیب بات نظر نہیں آئے گی۔اس وقت انہیں واقعہ میں یہ باتیں عجیب معلوم ہوتی ہیں شروع شروع میں تو لوگ زیادہ شور مچاتے تھے مگر میں دیکھتا ہوں اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ سمجھ گئے ہیں چنانچہ بچے اگر غلطی کریں تو بچوں کا نظام خود ہی اس غلطی کی اصلاح کر دیتا ہے اور ان کے ماں باپ شکایت نہیں کرتے۔کتاب ” مرکز احمدیت میں تقریر شروع کرنے سے پہلے بعض کتب کے متعلق بھی اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ایک کتاب ”مرکز احمدیت“ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے لکھی ہے میں ابھی اسے پڑھ نہیں سکا۔صرف ایک سرسری نظر میں نے اس کے مضامین پر ڈالی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بہت سی مفید معلومات قادیان اور سلسلہ کے متعلق جمع کر دی گئی ہیں قیمت بھی میں نے اس کی نہیں دیکھی مگر اس تنگی کے زمانہ میں انہوں نے اچھے موٹے کاغذ پر خوشخط کتاب چھپوائی ہے جو دوست باہر کی دنیا کو قادیان اور سلسلہ کے حالات سے روشناس کرانا چاہیں اور ان کی یہ بھی خواہش ہو کہ لمبے مضامین نہ ہوں بلکہ ایک مختصر کتاب میں جماعت کے کام اور مرکز کی خصوصیات کا ذکر ہو، تا کہ اسے خرید کر لوگوں کو اس کے مطالعہ کی تحریک کی جائے تو ایسے دوستوں کے لئے یہ کتاب بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔تحریک جدید کی شائع کردہ کتب سلسلہ کی کتب جوتحریک جدید کی طرف سے شائع کی گئی ہیں (سوائے تفسیر کبیر کے کہ وہ ختم ہو چکی ہے گو بعض لوگ اپنی طرف سے فروخت کر رہے ہیں) وہ بھی جن دوستوں کو تو فیق ہو خریدنی چاہئیں کیونکہ اس رنگ میں بھی وہ سلسلہ اور اسلام کی مدد کر سکتے ہیں۔تفسیر کبیر جلد سوم کو میں نے مستثنیٰ کیا ہے کیونکہ اب وہ تحریک کے پاس نہیں۔تفسیر کبیر کی کم یابی ہاں مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہی تفسیر کبیر جس کی پانچ اور چھ روپے قیمت رکھنے پر دوست جھگڑا کیا کرتے تھے اب دس دس چودہ چودہ، پندرہ پندرہ روپے میں بک رہی ہے بلکہ بعض لوگ جن کے پاس اس کتاب کے اب صرف دو چار نسخے باقی رہ گئے ہیں کہتے ہیں کہ اب ہم آئندہ یہ کتاب پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ بلکہ سوسو روپیہ سوم