انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 475

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ نظام نو کی تعمیر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۲ء بر موقع جلسه سالانه ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مجھے ابھی اس اعلان کے کرتے ہوئے (جو ایک زنانہ جلسہ گاہ کے متعلق ہدایت عمدا وار کے سے تعلق تھا) یہ خیل پیدا ہوا کہ گو اس گمشدہ ) دفعہ ڈبل مائکروفون لگا دیا گیا ہے مگر پھر بھی بچوں کے متعلق اعلان کرتے ہوئے یہ شبہ رہتا ہے کہ اعلان کی آواز زنانہ جلسہ گاہ میں پہنچی ہے یا نہیں۔میں اس بارہ میں ایک ترکیب بتا دیتا ہوں جس سے یہ مشکل حل ہو سکتی ہے۔منتظمین کو چاہئے کہ آئندہ عورتوں کے جلسہ گاہ میں ایک ہلکا سا جھنڈا لگا دیا کریں تا کہ جب اس قسم کا کوئی اعلان کیا جائے اور یہ معلوم کرنا ہو کہ اس کی آواز انہیں پہنچی ہے یا نہیں تو وہ سوال کرنے پر اپنے جھنڈے کو اونچا کر دیں اس طرح ہمیں علم ہو جائے گا کہ آواز اُن تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ لاؤڈ سپیکر میں کوئی نقص واقع ہو جاتا ہے اور آواز عورتوں تک نہیں پہنچتی اس بارہ میں بھی منتظمین کو اُن سے بار بار پوچھتے رہنا چاہئے کہ آلہ خراب تو نہیں ہو گیا؟ اور اگر بعض دفعہ منتظمین نہ پوچھ سکیں تو ایسی صورت میں بھی وہ اپنے جھنڈے کے ذریعہ اطلاع دے سکتی ہیں۔ایک افسوس ناک واقعہ اس کے بعد میں ایک افسوس ناک واقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کی گل ہی مجھے اطلاع ملی اور جس واقعہ کا ذکر دو دنوں ے مختلف گروہوں میں ہو رہا تھا وہ واقعہ یہ ہے کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ دارالبرکات کے ناظم صاحب نے کسی مہمان کو مارا ہے۔رات کو مجھے اس واقعہ کی اطلاع ملی اور میں نے اُسی