انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 466

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور شکایت کی جاتی ہے کہ فوج کے لئے رنگروٹ کم ملتے ہیں تم نے تو مردوں کو عورتیں بنادیا نگروٹ کیسے ملیں۔ہندوستان کی اتنی آبادی ہے کہ کئی کروڑ سپاہی یہاں سے مل سکتے ہیں مگر یہ تو اس صورت میں ہو کہ مرد ہوں حکومت نے تو مردوں کو عورتیں بنادیا ہے۔خدا نہ کرے کہ جاپانی کبھی اس ملک میں آسکیں لیکن اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ دیکھیں گے کہ بنگال سے پشاور تک کشمیری ہی کشمیری بھرے پڑے ہیں۔ہندوستان کے اکثر لوگ بزدل ہوچکے ہیں۔جرات باقی نہیں، ہتھیار کے تو نام سے ڈرتے ہیں اور اس بارہ میں حکومت کی پالیسی ایسی خطرناک ہے کہ خود اپنے ساتھ دشمنی کرنے والی بات ہے۔وہ ڈرتی ہے کہ لوگوں کے پاس ہتھیار ہونگے تو وہ فساد کریں گے مگر یہ بات صحیح نہیں۔اگر لوگوں کو بندوقیں دے دی جائیں تو ہرگز فساد نہ ہوگا۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ گت کا چلانے سے حکومت کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے اگر لوگوں نے گت کا سیکھ لیا تو اس سے ہٹلر کو کیا مددمل جائے گی ؟ کیا وہ گنتکا سے مسلح ہو کر ہندوستان پر حملہ آور ہوگا کہ یہ لوگ اس سے مل جائیں گے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ گنگا سیکھ کر ایک شخص کی بزدلی میں کچھ کمی آجائے گی باقی رہا یہ امر کہ وہ اس سے کوئی تہیں مارخان بن جائے گا یہ بالکل غلط بات ہے۔ایک گت کا جاننے والا بندوق والے کے سامنے کیا کر سکتا ہے۔اگر حکومت ایسی باتوں سے ڈرتی ہے تو اسے چاہئے کہ حسینوں کو بھی اندھا کر دے کیونکہ شاعر کہا کرتے ہیں کہ حسین نگاہ سے مار دیتے ہیں پس حکومت کی یہ پالیسی غلط ہے میں خاکساروں کا سخت مخالف ہوں مگر یہ حکم کہ کوئی بیلچہ یا پھاوڑہ نہ رکھے اس کا بھی میں مخالف ہوں۔ہماری جماعت کے انہی خدام نے جنگ کے خدام الاحمدیہ کی جنگ میں قابلِ قد را مداد لئے جو شاندار قربانی کی ہے وہ یہ ہے کہ اب تک سات ہزار سے زیادہ رنگروٹ دیئے جاچکے ہیں۔اب تک ٹیکنیکل بھرتی میں شمالی ہند نے ایک لاکھ آدمی دیا ہے جن میں سے ڈیڑھ ہزار ہم نے دیا ہے گویا 1 فیصدی۔پھر اب تک کنگ کمیشن والے ہندوستانیوں کی تعداد ۵ ، ۶ ہزار ہوگی اور ان میں سے قریباً ایک سو احمدی ہوں گے مگر اس کے باوجود بعض افسروں کو خدام الاحمدیہ کی تحریک مشتیہ نظر آتی ہے۔میں نے سنا ہے کہ ایک افسر نے کہا ہے کہ یہ ہیں تو بڑے وفا دار لوگ مگر ہیں بڑے مشکوک۔یہ طریق اگر حکومت کی طرف سے جاری رہا تو نو جوانوں میں اس سے سخت بددلی پیدا ہوگی۔میں نے ہمیشہ حکومت کو از راه خیر خواہی یہ مشورہ دیا ہے کہ اسے ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ سرکاری افسر باغیوں کو پکڑیں