انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 456

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ وہ مجبور ہو گئے کہ غلہ کو روک لیں یا چوری چوری گراں قیمت پر فروخت کریں اور اب یہ حالت ہے کہ گندم سات آٹھ روپے تک فی من فروخت ہو رہی ہے۔اگر گورنمنٹ خود ہی کچھ نرخ بڑھا دیتی تو لوگ اسے بخوشی برداشت کر لیتے اور اس تکلیف سے محفوظ رہ سکتے جو اس وقت اُٹھانی پڑ رہی ہے اور ابھی خطرہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک صورت نہ پیدا ہو جائے۔زمینداروں کو نصیحت میں نے زمینداروں کو نصیحت کی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ غلہ کاشت کریں اب تو جو ہونا تھا بویا جا چکا اب میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وقت آنے پر کٹائی وغیرہ احتیاط سے کریں اندازہ ہے کہ اس سال دس پندرہ فی صدی غلہ زیادہ پیدا ہو سکے گا۔پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ سوائے اشد مجبوری کے غلہ فروخت نہ کیا جائے اور اپنے پاس محفوظ رکھا جائے نفع کمانے کے لئے نہیں بلکہ تکلیف سے بچنے کے لئے سوائے اس کے کہ حکومت جبراً چھین لے لیکن جب تک وہ مجبور نہ کرے محض اعلانوں سے نہ ڈریں۔بظاہرا گلا سال اس سے بھی بہت سخت ہوگا اگر حکومت عقلمندی سے کام لے تو بیس لاکھ من کے قریب گندم فصل نکلنے پر خرید لے۔اس پر اگر ایک دو کروڑ روپیہ خرچ کرنا پڑے تو لوگوں کے فائدے کے پیش نظر معمولی بات ہے اگر روپیہ نہ ہو تو بنک سے سود پر قرض لے سکتی ہے ( وہ اسلامی احکام کے تابع نہیں کہ شود کا غذر کرے) اور پھر خرید شده گندم پر منافع لگا کر پورا بھی کر سکتی ہے اس سے بنیوں کا زور ٹوٹ جائے گا مگر یہ سٹاک ملٹری ضروریات کے لئے نہ ہو بلکہ ملٹری کے لئے اس سے الگ خریدا جائے۔اب تو خریف کا وقت گزر چکا ہے آئندہ خریف پر زیادہ سے زیادہ اشیاء خوردنی کی کاشت کرنی چاہئے۔بعض زمیندار خیال کرتے ہیں کہ جوار اور باجرہ وغیرہ کی کاشت کی کیا ضرورت ہے مگر اب تو ان لوگوں نے جن کے پاس جوار اور باجرہ وغیرہ تھا اتنا ہی نفع کمایا ہے جتنا گندم والوں نے۔اگر مارکیٹ میں جوار اور باجرہ کافی مقدار میں ہو تو گندم اتنی گراں رہ ہی نہیں سکتی۔پس میں زمینداروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خریف کی فصل زیادہ بوئیں اور کھانے پینے کی اشیاء زیادہ کاشت کریں۔ملازمت اور تجارت پیشہ احباب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی کریں اور کچھ نہ کچھ ضرور پس انداز کرتے رہیں اور جہاں تک ہو سکے اکٹھی گندم خرید لیں ورنہ بعد میں تکلیف اُٹھا ئیں گے۔آج ہی ایک احمدی کا خط مجھے ملا کہ افسوس میں نے آپ کی نصیحت پر عمل نہ کیا اور اس کے نتیجہ میں آج سخت تکلیف اُٹھا رہا ہوں۔پہلے چاول کھانے کے عادی تھے اسے چھوڑ کر گندم استعمال کرنے لگے وہ نہ ملی تو جوار شروع کی، پھر باجرہ کیا ، اب