انوارالعلوم (جلد 16) — Page 454
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور رکھو۔یہ گورنمنٹ کی سخت غلطی تھی جب گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا تو گندم کا بھاؤ چار روپے چھ آنے تھا اُس وقت بھاؤ مقررنہ کیا گیا اور وہ چڑھتے چڑھتے پانچ روپے پانچ آنے تک جا پہنچا۔پھر گورنمنٹ نے کنٹرول قائم کر دیا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ تاجر دلیر ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم غلہ کو روک لیں تو اور زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے پانچ روپے پانچ آنے بھاؤ مقررکرنے کے معنے یہ تھے کہ گورنمنٹ معنے نے جو قانون پاس کیا تھا وہ اُس کی تعمیل نہیں کر اسکی یہ گویا شکست کا اقرار تھا کہ ہم اپنے قانون کو نافذ نہیں کرا سکے۔میں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ دوست گندم خرید لیں مگر گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ اُس نے پندرہ لاکھ من غلہ خریدا ہے اور کہ غلہ سستا ہو جائے گا اس وجہ سے کئی لوگوں نے نہ بھی خریدا اور اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ انہیں کس قدر تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔پچھلے سال تو بورے والا آٹا ملتا تھا مگر اب کے وہ بھی نہیں مل رہا اور معلوم نہیں گورنمنٹ کی خریدی ہوئی پندرہ لاکھ من گندم کہاں ہے۔اب گورنمنٹ چھاپے مار رہی ہے اگر اس کے اپنے پاس پندرہ لاکھ من ہے تو لوگوں کے مکانوں پر گندم کی تلاش کے چھاپے کیوں مارے جارہے ہیں۔بات صرف یہ ہے کہ اس نے جو گندم خریدی تھی وہ ملٹری کی ضرورت کے لئے تھی اس صورت میں چاہئے تھا کہ وہ لوگوں سے کہہ دیتی کہ اپنی ضرورت کے لئے گندم خرید لو۔اسلام نے غلہ کو مہنگا کرنے کے لئے روکنے سے منع کیا ہے مگر گھر کے لئے جمع کرنے سے نہیں روکا بلکہ یہ ضروری ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ متوکل کون ہو سکتا ہے مگر آپ بھی اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا غلہ مہیا کر دیتے تھے۔گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ لوگوں سے کہتی کہ اپنی ضرورت کے لئے غلہ جمع کرو اور تاجروں سے کہتی کہ فروخت کرو مگر اس نے جو پالیسی اختیار کی وہ غلط تھی اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کو سخت تکلیف پہنچی ہے مجھے بعض جگہ سے خطوط آئے ہیں کہ ہم پہلے چاول کھاتے تھے وہ ملنے بند ہوئے تو گیہوں کا آٹا شروع کیا اب آٹا بھی نہیں ملتا باجرہ کا آٹا دو تین سیر روپیہ کامل رہا ہے۔ڈھاکہ سے آج ہی مجھے ایک خط ملا ہے کہ نہایت ادنیٰ قسم کا چاول ہیں روپیہ مکن مل رہا ہے حالانکہ پہلے موٹے چاول روپیہ کے دس بارہ سیر ملا کرتے تھے اور کشمیر میں تو ان کا بھاؤ اٹھارہ سیر فی روپیہ ہوتا تھا اب غریب لوگ کیا کھائیں۔اسی سلسلہ میں میں نے تحریک کی تھی کہ غرباء کے لئے بھی دوست غرباء کے لئے غلہ کی تحریک بطور امداد غلہ جمع کریں چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان کے غرباء کو پندرہ سوئمن گندم جو ان کی پانچ ماہ کی خوراک ہے اور نظام سلسلہ کی خوبی تقسیم کی گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اسے آخری پانچ ماہ