انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 441

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطار دھڑلے سے خانہ کعبہ میں گالیاں دیا کرتے تھے وہ ایک دن گالیاں دے رہے تھے تو یہ وہاں گئے انہوں نے کہا تم گالیاں دے رہے ہو سنو ! اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ كُفَّار نے پکڑ کر خوب پیٹا۔پیٹنے کے بعد پھر پوچھا تو چونکہ دل بہادر تھا پھر کہا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - تو یہ ان کی جرات اور بہادری تھی۔اتنے میں حضرت عباس آپہنچے یہ اس وقت مسلمان تھے اُن سے کسی نے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بڑے ہیں؟ حضرت عباس نے جواب دیا کہ درجے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہیں پیدا پہلے میں ہوا تھا۔تو جب یہ وہاں آئے تب حضرت ابوذر کو ان کے ہاتھوں سے چھڑایا ہے تو جب دل میں ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو جو ص بہادر ہوتا ہے وہ ہر جگہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔دین کے لئے بہادری کی ضرورت ہے اور دنیوی کاموں کے لئے بھی بہادری کی ضرورت ہے بُزدلی ہر صورت میں بُری ہے اور بہادری ہر لحاظ سے اچھی ہے۔اگر جاپانی گھس آئیں تو کیا تمہارا دل یہ چاہتا ہے کہ تمہارا بیٹا کھیت میں گھس جائے اور وہ گھروں کو لوٹ لے جائیں؟ یا تمہارا دل یہ چاہتا ہے کہ تمہارا بیٹا دروازے میں کھڑا ہو کر بہادری سے مقابلہ کرے اور لوگ کہیں واہ بھئی نو جوان مرتو گیا لیکن اپنی عورتوں کی جان بچالی یا تمہیں یہ اچھا لگتا ہے کہ اس وقت تمہارا بیٹا گھر میں گھس جائے اور دشمن عورتوں کی چوٹیاں پکڑ کر گھسیٹتے پھریں؟ تم کو تو وہی بچہ اچھا لگے گا جو گھر کی حفاظت میں اپنی جان تک دیدے گا۔ایک کا ڈر دوسرے کو بھی ڈرا دیتا ہے۔ڈرایسی چیز ہے جو ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اگر تم نے اپنے بچے کے دل میں ڈر پیدا کیا ہے تو وہ بہادری کس طرح دکھائے گا اور اگر تم صرف اُس کو بہادری کی تعلیم دیتی ہو اور وہ دوسرے بچوں کو ڈرتے دیکھتا ہو تو خود بھی ڈرنے لگتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ حنین میں گئے غزوہ حنین میں نئے نئے مسلمان شامل تھے ذرا تیر پڑے تو وہ بھاگے جب وہ بھاگے تو سارا لشکر اسلام بھی بھاگ پڑا یہاں تک کہ صرف باره آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے۔دوسری طرف چار ہزار آدمی تیر برسانے والے تھے۔وہ اپنی ذات میں ڈرپوک نہیں تھے ، بُزدل نہیں تھے بلکہ بُزدلوں کو دیکھ کر بُزدل بن گئے تھے کوئی عورت اپنے بچے کا دل مضبوط نہیں کر سکتی جب تک کہ سارے گاؤں کی عورتیں اپنے بچوں کے دل مضبوط نہ کریں۔اسی طرح تعلیم کو دیکھ لو امیر سے امیر آدمی بھی اکیلا سکول کو نہیں چلا سکتا لیکن مل کر غریب