انوارالعلوم (جلد 16) — Page 440
انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب لئے مکان بنایا ہے تو خدا کہے گا اُس نے میرے لئے مکان بنایا ہے اس لئے اس کا اس سے بہتر مکان جنت میں بناؤ سے اسی طرح اولاد کی تربیت ہے یہ اجتماعی کام ہے۔ تمہیں بڑا شوق ہے کہ تمہارا بچہ سچ بولے۔ تم رات دن اسے کہتی ہو کہ بچہ سچ بول بچہ سچ بول لیکن تم اکیلے اُسے کس طرح سکھا سکتی ہو تمہارا بچہ باہر کھیلنے جاتا ہے تو دوسرے کو کہتا ہے کہ بھائی ! ابا کو نہ بتانا کہ میں سکول نہیں گیا۔ تم گھر میں کہتی ہو کہ بچہ سچ بول تو اس کشمکش کے بعد کبھی تو تمہاری تعلیم اثر کرتی ہے، کبھی بھائی کی ۔ اگر اس بھائی کی ماں اُسے کہنے والی ہوتی کہ تو سچ بولا کر تو وہ فوراً تمہارے بچھ کو کہہ دیتا کہ میں جھوٹ نہیں بول سکتا میری ماں نے منع کیا ہوا ہے تو تربیت اولا د کبھی اجتماع کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ عورتوں کو چاہئے کہ وہ مل کر بیٹھیں اور سوچیں کہ ہمارے بچوں میں کیا کیا خرابیاں ہیں ، عورتیں تدابیر کریں اور عہد کریں کہ وہ ان کمزوریوں کو دور کریں گی اس میں تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر ساری عورتیں اپنے بچوں کو سچ بولنے کی ترغیب دیں گی تو کوئی بچہ جھوٹ بولنے والا نہیں ہوگا۔ اگر پندرہ بچے کھیلنے والے ہوں گے اور ان میں سے ایک جھوٹ بولنے والا ہوگا تو پندرہ دوسرے کہیں گے کہ ہم نے جھوٹ نہیں بولنا ہماری اماں نے منع کیا ہوا ہے تو تمہارا بچہ بھی سچ بولنے لگ جائے گا غرض یہ اجتماع یہ اجتماعی نیکیاں ہیں جو مل کر کرنے کے بغیر نہیں ہو سکتیں ۔ اسی طرح بہادری ہے اگر ہمارے بچے کمزور ہوں گے تو انہوں نے اپنی کیا اصلاح کرنی ہے اور جماعت کی کیا کرنی ہے، انہوں نے ملک کی کیا خدمت کرنی ہے اور قوم کی کیا کرنی ہے ۔ بہادر آدمی کو لوگ گیند کی طرح اُچھال اُچھال کر پھینکتے ہیں لیکن وہ اپنے کاموں سے باز نہیں آتا۔ حضرت ابوذرغفاری نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص نے دعوی نبوت کیا ہے انہوں نے اپنے بھائی کو تحقیقات کے لئے بھیجا لیکن اُس نے واپس جا کر کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا پھر وہ خود مکہ گئے لوگوں سے دریافت کیا۔ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچنے دیا یہی کہا کہ ایک شخص ہے جو اپنی سحر بیانی سے بھائی کو بھائی سے، بیوی کو خاوند سے جُدا کرتا چلا جاتا ہے لیکن یہ چُپ چاپ گلیوں میں چکر لگایا کرتے ۔ حضرت علیؓ نے انہیں ایک دن دیکھا، دوسرے دن دیکھا، تیسرے دن دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے آپ چکر لگایا کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا شاید تم بھی مجھے ٹھیک ٹھیک نہ بتلا سکو میں ایک کام کے لئے آیا ہوں حالانکہ حضرت علیؓ تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں میں سے تھے ۔ حضرت علیؓ نے پوچھا اور اصرار کیا تو اُنہوں نے بتلا دیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے وہ مسلمان ہو گئے ۔ دشمن اسلام بڑے