انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 432

انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء کھیل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کی مثال اس سے زیادہ نہیں جیسے کوئی عظیم الشان عمارت یا بہت بڑا محل بننے والا ہو تو اُس کے ایک کو نہ میں پاخانے کا کوئی حصہ بنایا جارہا ہو اس سے زیادہ موجودہ جنگ کی کوئی حقیقت نہیں ان کی سب کوششیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور یہ انقلابات اُس انقلاب کے مقابلہ میں رہیں گے ہی نہیں جو خدا تعالیٰ کے مد نظر ہے۔اگر یہ چیز ہماری جماعت کے دوستوں کے مدنظر رہے تو یقیناً ان میں ایسی حس پیدا ہو جائے کہ ان کے شست بھی چست ہو جائیں پس ان مقاصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہمارے مقرروں کو چاہئے کہ وہ تقریر میں کریں اور ان ہی مقاصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے سامعین کو چاہئے کہ ان تقریروں کو سنیں اور یہ بات ہر وقت ذہن میں رہے کہ ہمارے سامنے وہ مقاصد نہیں جو ہم نے تجویز کرنے ہیں بلکہ ہمارے سامنے وہ مقاصد ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں خدا تعالیٰ نے پہلے سے بتائے ہوئے ہیں ان مقاصد میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں اور اگر کوئی شخص ان مقاصد کے حصول کے لئے جد و جہد نہیں کرے گا تو خدا اُسے ابتلاؤں اور امتحانات کے ذریعہ مجبور کرے گا کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لئے جدو جہد کرے۔جب آقا اپنے کسی خادم کو چھت پر چڑھانا چاہتا ہو اور خادم کسی ایک سیڑھی پر جا کر بیٹھ رہے تو اُس کا آقا اُسے مار کر کہتا ہے کہ اُٹھ اور اوپر چڑھ پھر اگر وہ کسی اور سیڑھی پر بیٹھ جائے تو پھر اُس کا آقا اُسے مارتا ہے اور کہتا ہے اُٹھ اور اوپر چڑھ اِسی طرح خدا تعالیٰ ہمیں چھت پر لے جانا چاہتا ہے اگر کوئی شخص راستہ میں ہی بیٹھ رہے گا تو خدا تعالیٰ اُسے ٹھوکر مار کر کہے گا کہ اُٹھ اور آگے چل۔وہ چاہے اس کا نام ابتلاء ر کھے چاہے امتحان رکھے ، چاہے مصیبت اور تکلیف رکھے بہر حال یہ ابتلاء آتے چلے جائیں گے جب تک کہ وہ اوپر نہ چڑھ جائے۔اس نصیحت کے بعد اب میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ ہماری خواہش اور نصیحتیں سب بے کار ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد اور اُس کی نصرت شاملِ حال نہ ہو پس آؤ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم چھوٹے چھوٹے ذہنی مقاصد کو بھول جائیں اور ان عظیم الشان مقاصد کو اپنے سامنے رکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں اور جن کا آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے دنیا میں اعلان ہو چکا ہے۔مقرر تو وہ روزِ ازل سے ہی تھے ابھی آدم بھی پیدا نہیں ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ ایک زمانہ میں جماعت احمدیہ پیدا ہوگی اور اُس کے ذمہ یہ یہ کام ہوں گے مگر اس کا اعلان آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے ہوا پس