انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 423

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب ملنے کے لئے چلے جانا چاہئے ۔ اصل چیز تو ننگ ڈھانکنا ہے جب ننگ ڈھانکنے کے لئے لباس موجود ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی شخص کی ملاقات سے اس لئے محروم ہو جاتا ہے کہ کہتا ہے میرے پاس فلاں قسم کا کوٹ نہیں یا فلاں قسم کا کرتہ نہیں تو یہ دین نہیں بلکہ دنیا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس ٹوپی ہو تو اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ٹوپی اپنے سر پر رکھ لے لیکن اگر ٹوپی اُس کے پاس موجود نہیں تو وہ ننگے سر ہی دوسرے کے ملنے کے لئے جاسکتا ہے اگر اس وقت وہ محض اس لئے کسی کو ملنے سے ہچکچاتا ہے کہ ٹوپی اس کے پاس موجود نہیں تو وہ بھی تکلف سے کام لینے والا سمجھا جائے گا۔ مجھ سے ایک دفعہ احمد یہ ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے دریافت کیا کہ بعض لڑکے ننگے سر ادھر اُدھر چلے جاتے ہیں اور ٹوپی سر پر نہیں رکھتے اس بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا ٹوپی کے بغیر کہیں جانا اسلام کے خلاف نہیں لیکن یہ اسلامی تہذیب کے خلاف ضرور ہے انہیں چاہئے کہ وہ بلا وجہ ایسا نہ کیا کریں ۔ اگر ان کے پاس ٹوپی ہو تو سر پر ٹوپی رکھ لیا کریں ہاں اگر ٹوپی نہ ہو تو ننگے سر بھی جا سکتے ہیں بہر حال مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر ہمیں کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے ۔ مغربی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ ٹوپی کے اُتارنے میں عظمت ہے چنانچہ عیسائیوں میں جب بادشاہ کے سامنے لوگ جاتے ہیں تو ٹوپی سر سے اُتار لیتے ہیں اسی طرح عورت کے سامنے جائیں گے تو ٹوپی اُتار لیں گے لیکن اسلامی تہذیب یہ ہے کہ ٹوپی پہننی چاہئے ۔ یورپین تہذیب یہ کہتی ہے کہ عورت اپنے سر کو ننگا رکھے لیکن اسلامی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ عورت اپنے سر کو ڈھانک کر رکھے چنانچہ فقہاء نے اس بات پر بخشیں کی ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ نماز میں عورت کے سر کے بال ننگے ہوں تو اُس کی نماز نہیں ہوتی پس میں نے انہیں کہا کہ آپ لڑکوں کو یہ بتائیں کہ اسلامی شعار ٹوپی پہننے میں ہے ٹوپی اُتارنے میں نہیں ۔ ہاں اگر کسی کے پاس ٹوپی نہ ہو تو وہ ننگے سر بھی مسجد میں نماز کے لئے جا سکتا ہے۔ جس طرح یہ مغربیت ہو گی کہ کسی کے پاس ٹوپی ہو اور وہ پھر بھی اُسے نہ پہنے اور ہر وقت بالوں کی مانگ نکالنے، تیل ملنے اور کنگھی کرنے میں ہی مصروف رہے اسی طرح اگر کسی کے پاس ٹوپی نہ ہو اور پھر بھی وہ مسجد : ہ میں نہ جائے یا کوئی اور کام کرنے سے ہچکچائے تو یہ بھی اسلام کے خلاف حرکت ہوگی ۔ جس طرح یہ اسلام کے خلاف ہے کہ کوئی شخص خاص قسم کی دھاری دار قمیص پہننا ہی ضروری سمجھے اور اگر اس رنگ کی قمیص نہ ملے تو کوئی اور قمیص پہننا اپنے لئے ہتک کا موجب سمجھے اسی طرح یہ بھی اسلام کے خلاف ہوگا کہ کسی کے پاس قمیص تو ہو مگر وہ ننگے بدن پھر نے لگ جائے ۔ اسلام جسمانی حُسن کی