انوارالعلوم (جلد 16) — Page 26
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) کے پانی کو خراب نہ کر دے۔اسی طرح منڈیر سے یہ غرض بھی ہوتی ہے کہ کوئی شخص غلطی سے کنویں میں نہ گر جائے ، غرض منڈیر کا مقصد کنویں کو بُری چیزوں اور لوگوں کو گرنے سے بچانا ہوتا ہے۔مساجد دینی تربیت کا مرکز ، بُرائیوں سے محفوظ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اس مسجد کو ایک تو اس غرض کے لئے بنایا رکھنے کا ذریعہ اور قیام امن کا موجب ہوتی ہیں ہے کہ دنیا کے چاروں طرف سے لوگ اس جگہ آئیں اور یہاں آکر دینی تربیت اور اعلیٰ اخلاق حاصل کریں۔دوسرے ہم نے مسجد کو اس لئے بنایا ہے تا کہ وہ دنیا کے لئے منڈیر کا کام دے اور ہر قسم کی بُرائیوں اور شر سے لوگوں کو محفوظ رکھے۔تیسری غرض یہ بیان فرمائی کہ مسجد امن کے قیام کا ذریعہ ہوتی ہے اس کے بعد فرماتا ہے وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى ہم نے اس مسجد کو اس لئے بھی قائم کیا ہے تاکہ لوگ مقام ابراہیم پر بیٹھیں اور اسے مصلی بنا ئیں۔اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو بڑے زور سے یہ نصیحت کی تھی اَنْ طَهَّرَا بَيْتِی کہ تم میرے اس گھر کو پاک رکھو ( ان الفاظ میں بعض اور اغراض بھی بیان کر دی گئی ہیں ) لِلطَّائِفِينَ مسافروں کے لئے وَالْعَفِینَ اور مقیموں کے لئے وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ اور اُن لوگوں کے لئے جو اپنے کاروبار کو چھوڑ کر اس مسجد میں ذکر الہی کرنے کے لئے آ بیٹھے ہیں۔اس آیت سے مسجد کی یہ مزید اغراض معلوم ہوتی ہیں۔(۴) مساجد لوگوں کو جمع کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔(۵) مساجد شر سے روکنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔(۶) مساجد امن کے قیام کے لئے بنائی جاتی ہیں۔(۷) امامت کو ان کے ذریعہ زندہ رکھا جاتا ہے۔مسئلہ امامت کا دائمی احیاء چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو مدینہ میں ہوتے تھے مگر مسلمان جہاں کہیں ہوتے ایک شخص کو امام بنا کر اُس کی اقتداء میں نمازیں ادا کر نے لگ جاتے اور اب بھی ہر مسجد میں ایک امام ہوتا ہے جس کی اقتداء میں لوگ نماز میں ادا کرتے ہیں۔امام در حقیقت قائمقام ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مقتدی قائمقام ہوتے ہیں صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے۔جس طرح صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نمازیں ادا کر تے تھے اسی طرح آج ہر مسجد میں مسلمان ایک امام کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے ہیں۔گویا سابق نیکی کے لیڈروں کو زندہ رکھا جاتا اور مساجد کے ذریعہ امامت کو ہر وقت قوم کی آنکھوں کے سامنے رکھا جاتا ہے اور