انوارالعلوم (جلد 16) — Page 405
انوار العلوم جلد ۱۶ لئے کی تھی۔ہما را آکنده رویه ان تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ حکومت کے ساتھ تعاون سب سے بڑا جرم ہے۔گورنمنٹ کے مخالف ان باتوں کو نہیں بھولتے وہ بعد میں بدلہ لینے کی ہر تد بیر اختیار کرتے ہیں اور حکومت کے بعض افسران کی پیٹھ ٹھونکتے اور وفاداروں کو باغی بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان حالات کی موجودگی میں اگر کانگرس اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنائے اور ایک عام شورش ملک میں پیدا کر دے تو چونکہ یہ اس کی آخری جنگ ہوگی وہ ان جماعتوں کے خلاف یقیناً نفرت کے جذبات سے بھر جائے گی جو اس وقت اس کا مقابلہ کریں۔حکومت کے استحکام کے لئے یہ قربانی کی جاسکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر حکومت خود ہی چند دنوں کے بعد گاندھی جی کے روزہ سے ڈر کر کانگرس کے آگے ہتھیار ڈال دے تو ان تعاون کرنے والی جماعتوں کے لئے ہندوستان میں کونسی جگہ رہ جائے گی ؟ وہ ایک لمبے عرصہ کے لئے ذلیل ہو جائیں گی اور ملک میں اپنا وقار کھو بیٹھیں گی۔پس ان حالات میں میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ باوجود سابقہ تلخ تجربہ کے ہم حکومت کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں اور اپنے تمام ذرائع اس کے سپرد کرنے کے لئے آمادہ ہیں بشرطیکہ وہ اس امر کا واضح الفاظ میں اعلان کر دے کہ وہ مسٹر گاندھی کے روزہ سے ڈر کر یا کسی اور ایسی ہی تدبیر سے خائف ہو کر اس وقت ملک میں فساد کرنے والوں کے آگے ہتھیار نہ ڈال دے گی اور ندامت کے اظہار یا اپنی غلطی کا اقرار لئے بغیر انہیں آزاد نہ کرے گی۔اگر وہ یہ اعلان کر دے تو باوجود سابقہ تلخ تجربہ کے ہم اس کی جماعتی طور پر مدد کرنے کے لئے تیار ہونگے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہی صورت ہمارے لئے باقی رہ جائے گی کہ جہاں تک جنگ کا تعلق ہے ہم حکومت کی مدد کرتے رہیں گے لیکن اندرونی فسادات کے متعلق ہم غیر جانبدار کی حیثیت میں رہیں گے گورنمنٹ اور کانگرس آپس میں نپٹتے پھریں ہم جماعتی طور پر اس جھگڑے میں کوئی حصہ نہ لیں گے۔ہاں اگر منفردانہ طور پر جماعت احمدیہ کا کوئی آدمی گورنمنٹ کی مدد کرنا چاہے تو ہم اس سے اُسے روکیں گے نہیں مگر کانگرس کی مدد کسی احمدی کو انفرادی طور پر بھی نہ کرنے دیں گے کیونکہ حکومت کا مقابلہ کرنا ہمارے مذہبی اصول کے خلاف ہے۔میرے مندرجہ بالا نتیجہ پر پہنچنے کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا آئندہ طریق عمل حکومت کے فیصلہ پر منحصر ہے اگر حکومت اس امر کا اعلان کر دے گی کہ تو بہ کا اعلان کئے بغیر وہ فتنہ پیدا کرنے والوں کو نہیں چھوڑے گی اور کانگرس سے ڈر کر اُس سے صلح نہ کرے گی تو ہم پورے طور پر اس کا