انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 404

انوار العلوم جلد ۱۶ ہمارا آئندہ رویه (ب) کانگرس کی منظم جماعت ان کے خلاف ریشہ دوانی شروع کر دیتی ہے اور وہی حکومت جس کی تائید کی وجہ سے وہ جماعتیں بدنام ہوتی ہیں ان وفادار جماعتوں کے خلاف کانگرسی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کارروائیاں شروع کر دیتی ہے۔جماعت احمدیہ کو اس کا تلخ تجربہ حاصل ہے۔جماعت احمدیہ نے متواتر کانگرس کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دیا۔کانگرس کا وہ حصہ جو مسلمانوں میں کام کر رہا ہے احراری جماعت ہے یہ جماعت پہلے جماعت احمدیہ سے اچھے تعلقات رکھتی تھی۔۱۹۲۷ء کی تحریک میں میرے اشتہارات پر انہوں نے لبیک کہتے ہوئے مسلمانوں کی اقتصادی تحریک کی درستی کے لئے کام کرنا شروع کیا۔اسی سال میں چوہدری افضل حق صاحب نہایت تپاک سے مجھے شملہ میں ملتے رہے اور انہوں نے بعض سفارشیں کرنے کی بھی مجھ سے خواہش کی جس کے مطابق میں نے کام کر بھی دیا۔اس کے بعد پھر کانگرس سے ہمارا مقابلہ ہوا۔یہ جماعت کانگرس سے مل گئی اور ۱۹۳۴ ء میں اس نے ہمارا مقابلہ شروع کیا۔گورنر سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک اس کی امداد کرتے رہے اور عدالتوں میں اور عدالتوں کے باہر جماعت احمدیہ کو باغی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ہم مسٹر بٹلر سابق نائب وزیر ہند کے ممنون ہیں جنہوں نے حکومت ہند کی معرفت پنجاب کی حکومت کو اس طرف توجہ دلائی اور اُس وقت کی حکومت پنجاب نے غلط بیانی کر کے اپنی جان چھڑوائی اور حکومت برطانیہ کو جواب دیا کہ ہم جماعت احمدیہ کو وفا دار سمجھتے ہیں حالانکہ حکومت پنجاب حکومت ہند کو جو رپورٹیں بھجواتی رہی تھی ان میں بالوضاحت جماعت احمدیہ کی وفاداری پر شکوک کا اظہار کرتی رہی تھی۔گزشتہ سے گزشتہ سال کے جلسہ پر جب سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نامہ نگار نے ایک معاندانہ اور جھوٹا نوٹ میری تقریر کی نسبت شائع کیا جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ گویا میں نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ ہم کانگرس کی طرح عدم تشدد کے قائل نہیں اور ہم حکومت کا تشدد سے مقابلہ کریں گے جو ایک صریح جھوٹ تھا اور ہمارے عقائد کے خلاف تھا تو اس پر اُس وقت کے گورنر صاحب نے حکومت ہند کو اس جھوٹے نوٹ کی طرف توجہ دلائی اور جو تردید میری طرف سے ہوئی تھی اُسے اس رنگ میں پیش کیا کہ گویا میں نے بعد میں جھوٹ بول کر اپنی تقریر کی تردید کی ہے اور یہ گورنر صاحب اپنی خط و کتابت میں اپنے آپ کو میرا Very sincere friend لکھا کرتے تھے۔تازہ واقعہ ڈلہوزی کا واقعہ ہے اس میں ہمیں باغی بتانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کوشش کے پیچھے بعض مخالفین حکومت کا ہاتھ تھا جنہوں نے بعض پولیس افسروں سے مل کر یہ شرارت ہم سے وفاداری کا بدلہ لینے کے