انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 378

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) سوچے یا نہ سوچے وہ خود بخود بھوک اور پیاس محسوس کرتا ہے۔اسی طرح نفسانی خواہشات غور اور فکر سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ اگر غور اور فکر سے پیدا ہوں تو وہ جھوٹی خواہشات سمجھی جاتی ہیں۔مثلاً اگر اچھے کھانے کو دیکھ کر کھانا کھانے کا خیال پیدا ہو تو یہ جھوٹی خواہش ہو گی، جائز اور صحیح خواہش وہی ہوتی ہے جو بغیر غور و فکر طبعی طور پر انسان کے اندر پیدا ہو۔اسی طرح بعض چیزیں انکار سے تعلق رکھتی ہیں۔انسان بعض دفعہ چاہتا ہے کہ اُسے کوئی علمی بات معلوم ہو یا اس کے کسی اعتراض کا زالہ ہو۔یہ ایک علمی تقاضا ہے جو پورا ہونا چاہئے۔گویا تقاضے دو قسم کے ہیں، ایک طبعی اور ایک عقلی۔طبعی تقاضا تو یہی ہے کہ مثلاً بھوک کی خواہش پیدا ہو، اب روٹی کی خواہش انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے باہر سے نہیں آتی، لیکن نیو یارک دیکھنے کی خواہش طبعی طور پر بھوک پیاس کی طرح اس کے اندر سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ جب وہ کسی کتاب میں نیو یارک کے حالات پڑھتا یا کسی شخص سے وہاں کے حالات سنتا ہے تو اُس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں بھی نیو یارک دیکھوں۔تو نیو یارک دیکھنے کی خواہش اور قسم کی ہے اور روٹی کھانے کی خواہش اور قسم کی۔نیو یارک یا ایسا ہی دنیا کا کوئی اور شہر دیکھنے کی خواہش کبھی اندر سے پیدا نہیں ہوتی لیکن روٹی کھانے کی خواہش اندر سے پیدا ہوتی ہے تو ان دونوں تقاضوں میں فرق ہے۔میں نے سوچا کہ اگر میرے طبعی تقاضے پورے نہ ہوئے تب بھی میں کمزور ہو کر مر جاؤں گا اور اگر میری علمی زیادتی نہ ہوئی اور مجھے اپنی ذہنی اور عقلی پیاس کو بجھانے کا موقع نہ ملا تو اس صورت میں بھی میرا دماغ کمزور ہو جائے گا۔پس طبعی تقاضوں کا پورا ہونا بھی ضروری ہے تا کہ میرا جسم مکمل ہو اور عقلی تقاضوں کا پورا ہونا بھی ضروری ہے تا کہ میرا دماغ مکمل ہو۔قرآنی بشارت میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ معا میرے کان میں آواز آئی وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الَا نُفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ وَاَنْتُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ۵۲ کہ جو جو چیزیں ہم پہلے بتا چکے ہیں وہ بھی جنت میں ملیں گی اور اُن کے علاوہ جو طبعی تقاضے ہیں جیسے اشتہاء کہ وہ اندر سے پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں کی یہ جس کہ اس کے سامنے ایسی چیزیں آئیں جنہیں دیکھ کر وہ لذت اُٹھائے ہم ان تمام تقاضوں کو پورا کریں گے۔گویا قرآن کریم نے اُن خواہشات کو تسلیم کیا ہے جو اندرونی ضرورتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور فرماتا ہے کہ ان خواہشات کو ہم ضرور پورا کریں گے۔یہ خواہشات ہر شخص کے اندر پائی جاتی ہیں اور اگر ہم تجزیہ کریں تو بعض دفعہ ایک ایک چیز کی خواہش ہی نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کے ایک ایک