انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 363

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) بظاہر شفاف نہیں ہوتیں جیسے چاندی ، وہ بھی وہاں شفاف ہوں گی۔فِضَّة کے معنے عربی زبان میں بے عیب سفیدی کے ہوتے ہیں پس ان برتنوں کے چاندی سے بنائے جانے کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ ایک طرف تو جنتی بے عیب ہوں گے اور دوسری طرف ان میں کوئی اخفاء نہیں ہو گا۔ہر شخص جانتا ہو گا کہ میرا دوست جو بات کہتا ہے درست کہتا ہے قحبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔چار پائیاں اور گاؤ تکیے (۱۰) پھر میں نے مینا بازار میں گھر کے اسباب فروخت ہوتے دیکھے تھے۔پس میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں دیکھوں آیا وہاں بھی گھر کا اسباب ملے گا یا نہیں؟ جب میں نے نظر دوڑائی تو وہاں لکھا تھا علی سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَبِلِينَ ٤٦ مَوْضُونَةٍ کے معنے بنی ہوئی چار پائی کے ہوتے ہیں۔پس عَلَى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ ایسی چارپائیوں پر ہوں گے جو بنی ہوئی ہونگی۔عربوں میں دو طرح کا رواج تھا۔اکثر تو تخت پر سوتے تھے مگر بعض چار پائی بھی استعمال کر لیا کرتے تھے جب ہم حج کے لئے گئے تو مکہ مکرمہ میں ہم نے اچھا سا مکان لے لیا مگر اُس میں کوئی چار پائی نہیں تھی ، بلکہ اُس میں سونے کے لئے جیسے شہ نشین ہوتے ہیں اسی قسم کے تخت بنے ہوئے تھے ، لوگ وہاں گڑے بچھا لیتے اور سو جاتے مگر ہمیں چونکہ اُن پر سونے کی عادت نہیں تھی اس لئے میں نے اپنے لئے ایک ہوٹل سے چار پائی منگوائی تب جا کر سویا لیکن وہ لوگ کثرت سے تختوں پر سوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ وہاں جنت میں بنی ہوئی چار پائیاں ہوں گی ( جو لچکدار ہوتی ہیں ) مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَبِلِینَ۔لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ دنیا میں تو چار پائی سونے کے لئے ہوتی ہے مگر جنت میں سونے کا کہیں ذکر نہیں آتا۔کہیں قرآن میں یہ نہیں لکھا کہ جنتی کبھی سوئیں گے بھی۔در حقیقت سونا غفلت کی علامت ہے اور چونکہ جنت میں غفلت نہیں ہوگی اس لئے وہاں سونے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔اس سے بھی اُن لوگوں کا رڈ ہوتا ہے جو جنت کو نَعُوذُ بِاللہ عیاشی کا مقام کہتے ہیں۔عیاشی کے لئے سونا ضروری ہوتا ہے غالب کہتا ہے۔ایک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے وہ دن کو بھی سونے والی حالت بنانا چاہتا ہے کجا یہ کہ رات کو بھی سونا نصیب نہ ہو۔اسی۔