انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 21

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ مجلس میں کسی صحابی نے ذکر کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کے جنازہ کے ساتھ جائے اور دفن ہونے تک وہیں ٹھہرا رہے اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا۔دوسرے صحابہ نے جب یہ بات سنی تو وہ اس صحابی پر ناراض ہوئے اور کہنے لگے نیک بخت! تو نے پہلے یہ بات ہمیں کیوں نہ بتائی معلوم نہیں ہم اب تک کتنے قیراط ضائع کر چکے ہیں۔تو دوستوں کو ان دنوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور اپنے اوقات اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر الہی اور دعاؤں میں صرف کرنے چاہئیں۔(الفضل ۱۱ نومبر ۱۹۵۱ء) ، (۴) مساجد میں نے اس سفر میں جو چیزیں دیکھی تھیں ان میں سے کچھ مساجد بھی تھیں جو بڑی خوبصورت اور مختلف امتیازات والی تھیں۔کسی میں کالے پتھر لگے ہوئے تھے، کسی میں سفید اور کسی میں سُرخ اور بعض میں اگر سادگی تھی تو وہ سادگی اپنی ذات میں اتنی خوبصورت تھی کہ دل کو لبھا لیتی تھی۔اسی طرح بعض مساجد اتنی وسیع تھیں کہ ایک ایک لاکھ آدمی ان میں بیک وقت عبادت کر سکتا تھا اور بعض اتنی بلند تھیں کہ انسان اگر اُن کی چھت کو دیکھنے لگے تو اُس کی ٹوپی گر جائے غرض اپنے اپنے رنگ میں ہم میں سے ہر ایک نے اُن مساجد کو دیکھ کر لطف اُٹھایا اور جہاں موقع مل سکا وہاں ہم نے نفل بھی پڑھے۔مساجد کی تعمیر میں نیتوں کا تفاوت میں نے جب ان مساجد کو دیکھا تو اپنے دل میں کہا کہ ان خدا کے بندوں نے کیسی کیسی عظیم الشان مساجد بنا کر خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کو دنیا میں قائم کرنے کا اہتمام کیا تھا مگر ساتھ ہی میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ مساجد گو بڑی شاندار ہیں اور ان کے بنانے والوں نے ان کے بنانے پر بہت سا وقت اور روپیہ خرچ کیا ہے اور بہت بڑی قربانی سے کام لیا ہے تا ہم نہ معلوم انہوں نے ان مسجدوں کو کس کس نیت سے بنایا۔کسی نے ان کو اچھی نیت سے بنایا ہوگا اور کسی نے بُری نیت سے ، کسی نے تو اس خیال سے مسجد تعمیر کی ہوگی کہ لوگ کہیں گے یہ مسجد فلاں بادشاہ نے بنائی تھی۔اس ریا کاری کی وجہ سے ممکن ہے وہ اس وقت جہنم میں جل رہا ہو اور لوگ مسجد دیکھ کر کہہ رہے ہوں کہ واہ واہ ! فلاں مسلمان نے کتنی بڑی نیکی کا کام کیا حالانکہ اُس نے چونکہ ریاء کی وجہ سے مسجد بنائی تھی اس لئے وہ جہنم میں اپنے اس فعل کی سزا