انوارالعلوم (جلد 16) — Page 360
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) خوبصورت معلوم ہوتا ہے ، اسی طرح ناک ٹھیک ہو تب خوشبو کا لطف آتا ہے اور اگر کسی کی ناک درست نہ ہو اور تم اُسے باغوں میں بھی لے جاؤ تو اُسے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دنیا میں مینا بازار والے عطر دے سکتے ہیں مگر ناک نہیں دے سکتے۔لیکن ہم کیا دیتے ہیں فَرُوح ہم سب سے پہلے خوشبو سونگھنے اور اُس کو محسوس کرنے کی طاقت ناک میں پیدا کرتے ہیں۔روح کے معنے ہیں وِجَدَانُ الرَّائِحَةِ اور بھی معنے ہیں ، لیکن ایک معنے یہ بھی ہیں پس فرمایا دنیا والے تو صرف عطر بیچتے ہیں مگر ہم پہلے لوگوں کو ایسا ناک دیتے ہیں جو عطروں اور خوشبوؤں کو محسوس کرے (روح) میرے اپنے ناک کی جس غیر معمولی طور پر تیز ہے، یہاں تک کہ میں دُودھ سے پہچان جاتا ہوں کہ گائے یا بھینس نے کیا چارہ کھایا ہے۔اسی لئے اگر میرے قریب ذرا بھی کوئی بد بودار چیز ہو تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور جو لوگ میرے واقف کار ہیں وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت کھڑکیاں وغیرہ کھول دیتے ہیں کیونکہ اگر بند ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے، میں ہمیشہ کثرت سے عطر لگایا کرتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کثرت سے عطر لگا یا کرتے تھے مگر حضرت خلیفہ اول کو اس طرف کچھ زیادہ توجہ نہیں تھی۔میں آپ سے بخاری پڑھا کرتا تھا ، ایک دن میں آپ سے بخاری پڑھنے کے لئے جانے لگا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے فرمانے لگے کہاں چلے ہو؟ میں نے کہا مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے چلا ہوں۔فرمانے لگے ، مولوی صاحب سے پوچھنا کیا بخاری میں کوئی ایسی حدیث بھی آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن غسل فرماتے اور نئے کپڑے بدلا کرتے تھے اور خوشبو استعمال فرماتے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب جمعہ کے دن بھی کام میں ہی مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ اذان ہو جاتی اور کئی دفعہ آپ وضو کر کے مسجد کی طرف چل پڑتے۔آپ تھے تو میرے اُستاد مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات کہی تھی اس لئے میں نے اُسی طرح آپ سے جا کر کہہ دیا۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی احتیاط کیا کرتے تھے ، ہم تو اور کاموں میں بھول ہی جاتے ہیں۔میں نے تاریخ الخلفاء میں پڑھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا ، اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو عطر کی تجارت کیا کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے ناک کی جس بھی تیز تھی اور اس امر میں بھی میری اُن کے ساتھ مشابہت ہے۔تو ناک کی جس کا موجود ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی بھاری رحمت ہوتی ہے مگر دُنیا یہ حس کہاں دے سکتی ہے، وہ اپنے مینا بازاروں میں عطر