انوارالعلوم (جلد 16) — Page 344
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ہو جاتا ہے گنٹھیا کی شکایت ہو جاتی ہے اور جب نشہ اترتا ہے تو اُس وقت بھی انہیں خمار سا ہوتا ہے اور اُن کے سر میں درد ہوتا ہے، لیکن اس مینا بازار میں جو شراب ملے گی اُس میں ان نقائص میں سے کوئی نقص نہیں ہوگا۔اسی طرح نزف کے معنے ہوتے ہیں ذَهَبَ عَقْلُهُ اَوْ سُكِّرَ ۵۰ یعنی عقل کا چلے جانا اور بہکی بہکی باتیں کرنا۔یہ بات بھی ہر شرابی میں نظر آ سکتی ہے۔خود مجھے ایک شرابی کا واقعہ یاد ہے جو میرے ساتھ پیش آیا، اب تو میں حفاظت کے خیال سے سیکنڈ کلاس میں سفر کیا کرتا ہوں لیکن جس زمانہ کی یہ بات ہے اُس زمانہ میں میں تھرڈ کلاس میں سفر کیا کرتا تھا،مگر اتفاق ایسا ہوا کہ اُس دن تھرڈ کلاس میں سخت پھیر تھی میں نے سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ لے لیا مگر سیکنڈ کلاس کا کمرہ بھی ایسا بھرا ہوا تھا کہ بظاہر اُس میں کسی اور کے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی تھی۔چھوٹا سا کمرہ تھا اور اٹھارہ بیس آدمی اس میں بیٹھے ہوئے تھے۔بہر حال جب میں اُس کمرہ میں گھسا تو ایک صاحب جو اندر بیٹھے ہوئے تھے وہ مجھے دیکھتے ہی فوراً کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی کہ خود بیٹھے ہو اور یہ کھڑے ہیں ان کے لئے بھی جگہ بناؤ تا کہ یہ بیٹھیں۔میں نے سمجھا کہ گو میں انہیں نہیں جانتا مگر یہ میرے واقف ہوں گے۔چنانچہ اُن کے زور دینے پر لوگ اِدھر اُدھر ہو گئے اور میرے بیٹھنے کے لئے جگہ نکل آئی۔جب میں بیٹھ گیا تو وہی صاحب کہنے لگے کہ آپ کیا کھائیں گے؟ میں نے کہا آپ کی بڑی مہربانی ہے مگر یہ کھانے کا وقت نہیں میں لا ہور جا رہا ہوں وہاں میرے عزیز ہیں وہاں سے کھانا کھا لوں گا۔کہنے لگے نہیں پھر بھی کیا کھائیں گے؟ میں نے کہا عرض تو کر دیا کہ کچھ نہیں۔اس پر وہ اور زیادہ اصرار کرنے لگے اور کہنے لگے اچھا فرمائیے کیا کھائیں گے؟ میں نے کہا بہت بہت شکریہ میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔کہنے لگے اچھا تو پھر فرمائیے نا کہ آپ کیا کھائیں گے؟ میں اب گھبرایا کہ یہ کیا مصیبت آگئی ہے۔اس سے پہلے میں نے کسی شرابی کو نہیں دیکھا تھا اس لئے میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں۔اتنے میں ایک سکھ صاحب کمرہ میں داخل ہوئے اس پر وہ پھر کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی کمرہ میں ایک بھلا مانس آیا ہے اور تم اُس کے لئے جگہ نہیں نکالتے۔اور یہ بات کچھ ایسے رُعب سے کہی کہ لوگوں نے اُس کے لئے بھی جگہ نکال دی۔جب وہ سکھ صاحب بیٹھ چکے تو دومنٹ کے بعد وہ اُن سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے سردار صاحب! کچھ کھائیں گے؟ میں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص پاگل ہے اتنے میں ایک اور