انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 19

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) ہے کہ ہم گورنمنٹ کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے ، بم پھینکیں گے، پستول چلائیں گے اور قتل و خونریزی کا ارتکاب کریں گے حالانکہ شروع دن سے جماعت احمد یہ جس عقیدہ پر قائم ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں کسی قسم کے فتنہ وفساد میں حصہ نہیں لینا چاہئے پس یہ بالکل جھوٹ ہے جو سول نے میری طرف منسوب کیا۔احرار کی شورش کے زمانہ میں گورنمنٹ صراحتاً ہمارے خلاف حصہ لیتی تھی۔اُس وقت کے گورنر صاحب باوجود اس کے کہ ذاتی طور پر مجھ سے دوستی کا اظہار کیا کرتے تھے انہیں سلسلہ سے کوئی پر خاش تھی اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جماعت احمد یہ حکومت کی وفا دار نہیں۔اتفاقاً انہیں اُس وقت ڈپٹی کمشنر بھی ایسا مل گیا جس نے اپنا فائدہ اسی میں سمجھا کہ ہمیں بد نام کرے۔چنانچہ انہوں نے پوری کوشش کی کہ جماعت کو بدنام کیا جائے مگر ہم نے ایسے رنگ میں مقابلہ کیا کہ اپنے اصول کو بھی نہ چھوڑا اور گورنمنٹ کو بھی شکست کھانی پڑی۔اُس وقت جھوٹی رپورٹیں بھی کی گئیں ، جھوٹے مقدمات بھی بنائے گئے اور ہر رنگ میں ہمیں دُکھ دینے اور دنیا کی نگاہ میں ہمیں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہم نے ان سب باتوں کو برداشت کیا اور شرافت کے ساتھ اسلامی طریق سے مقابلہ جاری رکھا اور آخر گورنمنٹ کو نیچا دیکھنا پڑا۔پس جب کہ پنجاب گورنمنٹ کے بعض افسر اس فتنہ میں شامل تھے اور جب کہ ضلع کے حکام دیدہ دانستہ ہمارے خلاف شرارتیں کر رہے تھے اُس وقت بھی ہم نے اس طریق کو اختیار نہ کیا تو اب جب کہ لوکل افسروں کی بُزدلی کا میں ذکر کر رہا تھا یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں دھمکی دے دیتا کہ پنجاب گورنمنٹ کی پالیسی جماعت کے خلاف ہے اور اگر اس نے اس پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو اسے اس کے نتائج دیکھنے کے لئے تیار رہنا چاہئے پس یہ بات بالکل جھوٹ ہے اور نہ صرف عقل کے خلاف ہے بلکہ ہمارے سلسلہ کی تعلیم بھی اس کے مخالف ہے۔پھر ایک اور عجیب بات اس نے لکھی ہے جسے پڑھ کر مجھے ہنسی آئی کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا جب تک میں خدا تعالیٰ کی راہ نمائی کے ماتحت کام کر رہا ہوں اس جہاز کو حفاظت کے ساتھ چلاتا جاؤں گا اور ہر قسم کے خطرات سے اسے محفوظ رکھوں گا حالانکہ نہ میں نے اس کا ذکر کیا اور نہ ہی اس قسم کا کوئی مضمون تھا۔معلوم ہوتا ہے غیر مبائعین کے متعلق میں نے جو یہ الہام بتایا تھا کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - غالبا اس روشن دماغ مضمون نگار نے اس الہام کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے تعجب ہے کہ ایسا ذمہ دار اخبار ایسے گودنے لوگوں کو رپورٹ لینے کے لئے کیوں بھیج دیتا ہے جو بات کو پورے طور پر سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے۔