انوارالعلوم (جلد 16) — Page 335
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ذریعے پہلی دفعہ آزادی کا سانس لیا ہے مگر میں نے سوچا بیڑیاں اور زنجیریں تو کٹ گئیں لیکن آخر انسان غلام تو ہوا۔غلامی کی دوسری باتیں تو ہوں گی اور جو کچھ اس کا ہے وہ لازماً اس کے آقا کا ہو جائے گا۔چنانچہ میں اب اس انتظار میں رہا کہ مجھ سے کہا جائے گا کہ لاؤ اپنی سب چیزیں ہمارے حوالے کر دو، تم کون ہو جو یہ چیزیں اپنے پاس رکھو، مگر بجائے اس کے کہ غلاموں کا داروغہ یہ کہتا کہ لاؤ اپنی سب چیزیں میرے حوالے کر واُس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اب جو تم میرے آقا کے غلام بنے ہو تو لو سُنو ! اُس نے مجھے یہ پیغام دیا ہے کہ وَهُوَيَتَوَلَّى الصَّلِحِيْنَ " اگر اچھی طرح غلامی کرو گے تو وہ تمہارا پوری طرح کفیل ہو گا اور تمہاری سب ضرورتوں کو پورا کرے گا ، میں نے کہا یہ اچھی غلامی ہے۔دنیا میں غلام تو آقا کو کما کر دیا کرتے ہیں اور یہ آقا کہتا ہے کہ ہم تمہاری سب ضرورتوں کے کفیل ہوتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو دنیا میں غلاموں سے مختلف قسم کے کام لئے جاتے ہیں کوئی نجاری کا کا م کرتا ہے، کوئی لوہارے کا کام کرتا ہے، کوئی مزدوری کا کام کرتا ہے، کوئی درزی کا کام کرتا ہے، اسی طرح اور کئی قسم کے کام اُن سے لئے جاتے ہیں اور وہ جو کچھ کماتے ہیں اپنے آقا کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں مگر یہاں اُلٹی بات ہوتی ہے کہ جب کوئی غلام بنتا ہے تو اسے یہ پیغام دے دیا جاتا ہے کہ چونکہ تم غلام ہو گئے ہو اس لئے تمہاری سب ضرورتوں کے ہم کفیل ہو گئے ہیں۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ روزی کمانے کے لئے ایک بزرگ کا دلچسپ واقعہ کوئی کام نہیں کرتے تھے اور توکل پر گزارہ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں جو کچھ بھیج دیتا کھا لیتے۔ایک دفعہ انہیں ایک اور بزرگ نے سمجھایا کہ یہ آپ ٹھیک نہیں کرتے آپ کو کوئی کام بھی کرنا چاہئے اس طرح لوگوں پر برا اثر پڑتا ہے۔وہ کہنے لگے بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور مہمان اگر اپنے کھانے کا خود فکر کرے تو اس میں میزبان کی ہتک ہوتی ہے ، اس لئے میں کوئی کام نہیں کرتا وہ کہنے لگے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تین دن سے زیادہ مہمانی جائز نہیں ۲۹ اور اگر تین دن کوئی شخص مہمان بنتا ہے تو وہ سوال کرتا ہے آپ کے تین دن ہو چکے ہیں اس لئے آپ اب کام کریں۔انہوں نے کہا حضرت مجھے بالکل منظور ہے مگر میں جس کے گھر کا مہمان ہوں وہ کہتا ہے اِنَّ يَوْماً عِندَرَتِكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ۔تیرے رب کا ایک دن تمہارے ایک ہزار سال کے برا بر ہوتا ہے پس تین ہزار سال تو مجھے کچھ نہ کہیں ، جس دن تین ہزار سال گزر گئے میں