انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 18

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ ’سٹیٹسمین “ کو جب معلوم ہوا کہ رسول کا نمائندہ وہاں گیا تھا تو اُس نے بھی اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا مگر باوجود اس کے کہ اُسے صرف پندرہ بیس منٹ ہی وقت دیا گیا تھا اُس نے جو رپورٹ شائع کی وہ ایسی غلط نہیں تھی جیسے سول اخبار کے نمائندہ کی۔بعض غلطیاں اس میں بھی تھیں مگر وہ قابلِ برداشت تھیں باقی تمام رپورٹ شریفانہ رنگ میں لکھی گئی تھی۔بعض دوستوں کو یہ بھی شکوہ ہے کہ رسول اخبار کا لہجہ چھچھورا ہے مگر میں سمجھتا ہوں یہ شکوہ ایسا اہم نہیں وہ ایک دُنیوی اخبار ہے کوئی مذہبی پر چہ نہیں اور جو اخبار محض دُنیوی ہو اور جس کے شائع کرنے کی غرض یہ ہو کہ ایک ایک آنہ میں اس کے پرچے پک جائیں اس کے متعلق یہ امید رکھنا کہ اُس کی زبان چھچھوری نہ ہو صحیح نہیں۔ایسے اخبارات شائع کرنے والوں کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ زبان ایسی ہو جس سے لوگ حظ اُٹھا ئیں اور اُن کا پرچہ فروخت ہو جائے بہر حال مجھے اس پر اعتراض نہیں۔مجھے اعتراض یہ ہے کہ بعض باتیں واقعات کے لحاظ سے اس میں بالکل غلط لکھ دی گئی ہیں۔مثلاً وہی رویا جو ۲۸ سو جہازوں والا تھا اور جسے گل میں نے تفصیلاً بیان کیا تھا اس کا ذکر میں نے سول کے نمائندہ کے سامنے بھی کیا تھا مگر اُس نے رپورٹ شائع کرتے وقت جہازوں کی تعداد ۲۸ سو کی بجائے ۲۴ سولکھ دی جس کی سوائے اس کے اور کیا غرض ہو سکتی ہے کہ پڑھنے والوں کو جب معلوم ہو کہ خواب میں تو ۲۴ سو جہاز بتائے گئے تھے اور امریکہ سے ۲۸ سو جہاز بھیجے گئے تو ان پر یہ اثر ہو کہ خواب جھوٹا نکلا۔پھر وہ خود ہی سوال کرتا گیا کہ آپ کے بیٹے کتنے ہیں؟ آپ نے شادیاں کتنی کیں؟ اب ان باتوں کے جواب میں یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں سورہ فاتحہ کی تفسیر شروع کر دیتا۔جب وہ میری ذات کے متعلق باتیں دریافت کر رہا تھا تو میرا فرض تھا کہ میں اُنہی باتوں کا جواب دیتا مگر اُس نے اخبار میں میرے متعلق یہ لکھ دیا کہ وہ اس عرصہ میں اپنی ذات کے متعلق ہی باتیں کرتے رہے حالانکہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ سوال تو میرے متعلق کرتا اور میں جواب میں پُرانے تاریخی واقعات بیان کرنا شروع کر دیتا یا قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر شروع کر دیتا۔اب کل کی تقریر کے متعلق بھی اُس نے ایسا ہی کیا ہے اور چونکہ اُس نے ایک ایسی بات میری طرف منسوب کی ہے جو ہمارے عقیدہ کے خلاف ہے اس لئے میں اس کی تردید کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔رسول نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم عدم تشدد کے قائل نہیں اور یہ کہ ہم گورنمنٹ کو دکھا دیں گے کہ ہم کیسے ہیں۔اب ان الفاظ کا سوائے اس کے اور کیا مفہوم ہوسکتا