انوارالعلوم (جلد 16) — Page 315
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) مرنیوالوں کا صیح مقام روحانی مقبرہ سے ہی ظاہر ہوتا ہے خلاصہ یہ کہ اس انتظام میں ہر ایک کا مقبرہ ہے اور ہر ایک کا مقبرہ اس کے درجہ کے مطابق ہے اور یہی انتظام مقبروں کی غرض کو پورا کرنے والا ہے اس میں صرف نام یا طہرتِ ظاہری کے مطابق مقبرہ نہیں بنتا بلکہ خالص عمل اور حقیقی درجہ کے مطابق مقبرہ بنتا ہے اور یہ مقبرے گویا مرنے والوں کے صحیح مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔دنیا میں بعض دفعہ ایک شخص بڑا نیک ہوتا ہے مگر اس کے گھر کھانے کے لئے سُوکھی روٹی بھی نہیں ہوتی اور دوسرا شخص خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے مگر اس کے گھر میں پلاؤ زردہ پکتا ہے۔ایک کی ڈیوڑھی پر دربان بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کسی کو اندر گھنے نہیں دیتے اور دوسرے کے پاس اپنا سر چھپانے کے لئے جھونپڑی بھی نہیں ہوتی حالانکہ وہ بہت نیک اور خدا رسیدہ ہوتا ہے۔اگر عمارتیں نیکی اور تقویٰ کی بناء پر بنائی جائیں اور جو زیادہ نیک ہواُس کی عمارت زیادہ شاندار ہو، جو اُس سے کم نیک ہو اس کی عمارت اس سے کم شاندار ہو تو شہر میں داخل ہوتے ہی پتہ لگ جائے گا کہ یہاں کے لوگوں کے اعمال کیسے ہیں۔مگر دنیا میں ایسا نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ایسے مقبرے بنائے ہیں کہ جن میں داخل ہوتے ہی ساری دنیا کی تاریخ گھل جائے گی اور ساری ہسٹری (HISTORY) آنکھوں کے سامنے آ جائے گی کیونکہ وہ ہسٹری ان کے مکانوں اور ثوابوں اور عذابوں کی صورت میں لکھی ہوئی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاک لوگوں پھر جو دنیا کے مقبرے ہیں ان میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ مقابر پر کتے پاخانہ پھر جاتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہوتا۔انگریزوں نے کے مقبروں کی حفاظت کا انتظام آثار قدیمہ کا ایک محکمہ بنا کر پرانے آثار کو کسی قدر محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی وہ مقبروں کی پوری حفاظت نہیں کر سکے اور حال یہ ہوتا ہے کہ مقبرے پر تو پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ صرف ہو چکا ہوتا ہے مگر وہاں جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گنتے آتے اور پاخانہ کر کے چلے جاتے ہیں۔مگر وہ مقبرے جو اللہ تعالیٰ بناتا ہے ان کی یہ حالت نہیں ہوتی بلکہ وہاں ہر شخص قابل عزت ہوتا ہے ، اُس کے مقبرہ کی حفاظت کی جاتی ہے اور صرف گندے لوگوں کے مقبروں کی حالت ہی خراب ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولئِكَ فِي جَنَّتِ مُكْرَمُونَ " جو نیک لوگ ہو نگے انہیں جنت میں جگہ دی