انوارالعلوم (جلد 16) — Page 295
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) قائم رہیں جو صداقت کے پھیلنے میں روک نہ ہوں بلکہ اس کی اشاعت میں زیادہ سے زیادہ مدد دینے والے ہوں۔پس اِن ملکوں کے جو باشندے ہیں اُن کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کی قربانیاں کر کے اپنی اپنی حکومتوں کے ساتھ تعاون کریں اور ہندوستان کے رہنے والے احمدیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ان بھائیوں کا خیال کر کے جو جاوا اور سماٹرا اور بورینیو میں رہتے ہیں اور اپنے اُن بھائیوں کا خیال کر کے جو یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ اب اُن پر حملہ ہو رہا ہے اور جاوا اور سماٹرا اور امریکہ میں تو ہمارے مبلغ بھی موجود ہیں خاص طور پر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو، انہیں مشکلات سے بچائے اور اسلام کی تبلیغ کا دروازہ ہمارے لئے ہمیشہ کھلا رہے۔(الفضل ۳ جنوری ۱۹۴۲ء) اس کے بعد سیر روحانی کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: - (۶) جسمانی مقبرے اور روحانی مقبرے۔چھٹی بات جو میں نے مذکورہ بالا سفر میں دیکھی تھی شاندار مقبرے تھے جو بادشا ہوں کے بھی تھے اور وزیروں کے بھی تھے ، امیروں کے بھی تھے اور فقیروں کے بھی تھے ، اولیاء اللہ کے بھی تھے اور غیر اولیاء اللہ کے بھی تھے، حتی کے کتوں کے بھی مقبرے تھے مگر ان مقبروں میں کوئی پہلوفن کے لحاظ سے صحیح معلوم نہیں ہوتا تھا۔یوں عمارتیں بڑی شاندار تھیں اور وقتی طور پر اُن کو دیکھ کر دل پر بڑا اثر ہوتا تھا چنانچہ آگرہ کا تاج محل بڑا پسند یدہ نظر آتا ہے ، ہمایوں کا مقبرہ بڑا دل پسند ہے ، اسی طرح منصور اور عماد الدولہ کے مقبرے وہیں ہیں اور جہانگیر کا مقبرہ شاہدرہ لاہور میں ، سب اچھے معلوم ہوتے ہیں مگر جب ان مقابر کو ہم مجموعی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی تعمیر میں فن کو مد نظر نہیں رکھا۔جسمانی مقابر میں تاریخی حقائق اور باہمی توازن کا فقدان چنانچہ دیکھ لو مقبرہ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اُس شخص کی زندگی کا ایک نشان ہو جس کا وہ مقبرہ ہے اور اُس کی تاریخ کو وہ دنیا میں محفوظ رکھے، مگر ہمیں ان بادشاہوں، وزیروں، امیروں اور فقیروں وغیرہ کی زندگی کا نشان ان مقبروں میں