انوارالعلوم (جلد 16) — Page 294
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ”زمیندار“ ٹائپ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اقرار احسان اُن کے اقرار احسان کی طرح ہوتا ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ ہم انگریزوں کے ممنونِ احسان ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی کرم بخشی کی ہوگی حالانکہ ہم اسلام کے تابع ہیں اور اسلامی تعلیم کے ماتحت سمجھتے ہیں کہ جب کوئی باپ یا اُستاد یا ملک کا والی اپنے فرائض کو ادا کرتا ہے تو وہ دوسروں پر احسان کرتا ہے۔پس جب ہم انگریزوں کو محسن کہتے ہیں تو اس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں تبلیغ کی اجازت دی ہوئی ہے اس سے زیادہ ہماری کوئی مراد نہیں ہوتی اور نہ ہم نے ان سے کسی اور حسن سلوک کی کبھی تمنا کی ہے اور نہ انہوں نے ہی کبھی ہم پر کوئی اور احسان کیا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے دو اور حکومتیں بھی ہیں جن کا اس رنگ میں ہم پر احسان ہے ان میں سے ایک تو امریکہ کی حکومت ہے۔وہاں ہزار ہا احمدی پائے جاتے ہیں۔گو وہاں بعض روکیں بھی ہیں اور حکومت امریکہ نے اپنے ملک میں داخلہ پر بعض پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں مگر پھر بھی وہاں ہمارا مبلغ موجود ہے اور ہزار ہا احمدی مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔دوسرا ملک ہالینڈ ہے جہاں سماٹرا اور جاوا میں ہزاروں احمدی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے مشرقی ممالک میں ہندوستان کے بعد ہماری سب سے بڑی جماعت جاوا اور سماٹرا میں ہی ہے بیسیوں جماعتیں ہیں جو مختلف شہروں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان ساری جماعتوں میں تبلیغ ہو رہی ہے مگر گورنمنٹ کی طرف سے ہماری تبلیغ کے راستہ میں کسی قسم کی رُکاوٹ نہیں ڈالی جاتی۔پس جیسے کہ انگریزوں کا ہم پر احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں تبلیغ میں آزادی دی ہوئی ہے اسی طرح یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ اور حکومت ہالینڈ کا بھی ہم پر احسان ہے اور یہ دونوں حکومتیں بھی آجکل جنگ میں شامل ہیں۔ہم ہندوستان کے رہنے والے ان کی کسی اور طرح تو مدد نہیں کر سکتے ہاں ہم دعا سے مدد ضرور کر سکتے ہیں۔پس ہماری جماعت کے تمام دوستوں کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ان قوموں کو ظلموں اور جنگ کی تلخیوں سے محفوظ رکھے۔پھر جس وقت میرا یہ خطبہ باہر پہنچے گا ہماری جماعت کے وہ دوست جو جاوا اور سماٹرا اور بور نیو میں رہتے ہیں اسی طرح جو دوست یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں اُن کے کانوں تک بھی یہ آواز پہنچ جائے گی کہ جس حکومت نے انہیں تبلیغ اسلام کی اجازت دے رکھی ہے اس مصیبت کے وقت ان کا فرض ہے کہ اس حکومت کے ساتھ ہر طرح تعاون کریں۔جنگ کے کاموں میں اسے مدد دیں اور اس کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہیں تا کہ دنیا میں ہمیشہ ایسے مرکز