انوارالعلوم (جلد 16) — Page 293
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کرنے کی ضرورت نہیں نام پیش کرنے کا وہی وقت ہوگا جب میں یہ کہوں گا کہ ہم نے گورنمنٹ پر حجت پوری کر دی ہے۔مگر ابھی تک تو پنجاب گورنمنٹ پر بھی مُجت پوری نہیں ہوئی کُجا یہ کہ حکومت ہند یا حکومت انگلستان پر حجت ہوئی ہو اسی لئے میں نے کہا تھا کہ اصل کام وہ ہوتا ہے جو صبر اور شدائد کو برداشت کرنے کے بعد اپنے وقت پر کیا جائے۔وہ کام حقیقی کام نہیں کہلا سکتا جو محض جوش کے ماتحت کیا جائے اور جس کے متعلق انسان خیال کرے کہ اگر میں نے اس وقت یہ کام نہ کیا تو میرا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں دو سال صبر کروں گا تو میری غیرت نکل جائے گی وہ کبھی باغیرت مؤمن نہیں کہلا سکتا۔باغیرت مؤمن وہی ہے جسے ہیں سال بھی اگر صبر کرنا پڑے تو صبر کرتا چلا جاتا ہے۔چنا نچہ دیکھ لوصحابہ کرام نے ا تیرہ سال مکہ میں کفار کے مظالم پر صبر کیا اور ایک دو سال مدینہ میں بھی دشمنوں کے مقابلہ میں صبر سے کام لیتے رہے۔گویا چودہ پندرہ سال مسلسل انہوں نے صبر کیا اور اُن کی غیرتیں دبی رہیں۔پھر جب خدا نے اُن سے کہا کہ اب تمہاری غیرت کا امتحان لیا جائے گا تو وہ آگے آگئے لیکن اس واقعہ پر تو ابھی تین چار مہینے ہی گزرے ہیں حالانکہ اسلام نے ہمیں چودہ پندرہ سال تک اپنی غیرت کو دبانے کا سبق سکھایا ہوا ہے۔پس دوست اُس وقت تک صبر کریں جب تک گورنمنٹ پر حجت تمام نہ ہو جائے اور جب تک میں اس کے متعلق کوئی اعلان نہ کروں اور یہ اعلان نہ کروں کہ کس قسم کے لوگوں کو بلاتا ہوں۔ممکن ہے میں بغیر کسی شرط کے ہی دوستوں کو بلا لوں۔(۳)۔ایک اور بات جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ گل میں نے حکومت انگریزی کی امداد کے متعلق جماعت کو تحریک کی تھی۔اسی طرح میں نے موجودہ جنگ میں انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا کرنے کی تحریک کی تھی اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت ملک میں امن کے قیام کے متعلق جو تجاویز عمل میں لائے اُن تجاویز پر عمل کر کے ہماری جماعت کو قیام امن کی کوششوں میں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے مگر ایک بات مجھ سے نظر انداز ہوگئی اور وہ یہ کہ انگریزی حکومت کے علاوہ دو اور حکومتیں بھی ہم سے ایک حد تک حُسنِ سلوک کرتی ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے ملک میں ہمیں تبلیغ کی اجازت دی ہوئی ہے۔انگریزوں کا بھی ہم سے یہی حسن سلوک ہے ورنہ وہ اور ہمیں کیا دیتے ہیں۔آج تک ہم نے انگریزوں سے کوئی مادی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ہم ان کا یہی احسان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں تبلیغ کی اجازت دی ہوئی ہے۔پس ہمارا اقرار احسان اسلامی تبلیغ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔مگر اخبار