انوارالعلوم (جلد 16) — Page 285
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ کے ذریعہ، اسباق کے ذریعہ اور بار بار امتحان لے کر ان باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھایا جائے یہاں تک کہ ہر مرد وعورت اور ہر چھوٹے بڑے کے دل میں ایمان بالغیب پیدا ہو جائے۔۱۹ دوسرے ضروری چیز نماز پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے قرآن کریم نے يُؤَدُّونَ الصلوة کہیں نہیں فرمایا یا يُصَلُّونَ نہیں کہا بلکہ جب بھی نماز کا حکم دیا ہے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ فرمایا ہے اور اقامت کے معنے باجماعت نماز ادا کرنے کے ہیں اور پھر اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔گویا صرف نماز کا ادا کرنا کافی نہیں بلکہ نماز باجماعت ادا کرنا ضروری ہے اور اس طرح ادا کرنا ضروری ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص نہ رہے۔اسلام میں نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ قائم کرنے کا حکم ہے اس لئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ نماز پڑھنے پر خوش نہ ہو بلکہ نماز قائم کرنے پر خوش ہو۔پھر خود ہی نماز قائم کر لینا کافی نہیں بلکہ دوسروں کو اس پر قائم کرنا چاہئے۔اپنے بیوی بچوں کو بھی اقامت نماز کا عادی بنانا چاہئے۔بعض لوگ خود تو نماز کے پابند ہوتے ہیں مگر بیوی بچوں کے متعلق کوئی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ اگر دل میں اخلاص ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی بچے کا یا بیوی کا یا بہن بھائی کا نماز چھوڑ نا انسان گوارا کر سکے۔ہماری جماعت میں ایک مخلص دوست تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں۔ان کے لڑکے نے مجھے لکھا کہ میرے والد میرے نام ”الفضل“ جاری نہیں کراتے۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ کیوں اس کے نام ”الفضل“ جاری نہیں کراتے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مذہب کے معاملہ میں اسے آزادی حاصل ہو اور وہ آزادانہ طور پر اس پر غور کر سکے۔میں نے انہیں لکھا کہ ”الفضل“ پڑھنے سے تو آپ سمجھتے ہیں اس پر اثر پڑے گا اور مذہبی آزادی نہ رہے گی لیکن کیا اس کا بھی آپ نے کوئی انتظام کر لیا ہے کہ اس کے پروفیسر اس پر اثر نہ ڈالیں ، کتابیں جو وہ پڑھتا ہے وہ اثر نہ ڈالیں، دوست اثر نہ ڈالیں اور جب یہ سارے کے سارے اثر ڈال رہے ہیں تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے زہر تو کھانے دیا جائے اور تریاق سے بچایا جائے۔تو میں بتا رہا تھا که اقامت نماز ضروری ہے اور اس میں خود نماز پڑھنا، دوسروں کو پڑھوانا ، اخلاص اور جوش کے ساتھ پڑھنا، باوضو ہو کر ٹھہر ٹھہر کر با جماعت اور پوری شرائط کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے اس کی طرف ہمارے دوستوں کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ کئی لوگوں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ خود تو نماز پڑھتے ہیں مگر ان کی اولاد نہیں