انوارالعلوم (جلد 16) — Page 279
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور ہندو مسلمانوں کے اتفاق کا غذر درست نہیں۔کیا جب انگریز یہاں آئے تھے تو ہندو مسلمانوں سے پوچھ کر اور ان کی رضامندی سے آئے تھے؟ ان کے یہاں آنے کی تصدیق کس نے کی تھی ؟ جب انہوں نے ہندوستان پر قبضہ ہند و مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر کر لیا تھا تو اب اسے چھوڑنے کے لئے وہ ان کی رضامندی کو اس قدر ضروری کیوں سمجھتی ہے؟ جب وہ ان دونوں کی رضامندی کے بغیر یہاں آگئی تھی تو گویا اس نے اس اصل کو تسلیم کر لیا تھا کہ وہ ان کی رضامندی کی پابند نہیں تو پھر اب اسی اصل کے مطابق جو دینا چاہتی ہے دے دے۔اسے چاہئے کہ اعلان کر دے کہ اس کے نزدیک اِس اِس طرح سب قوموں کے حقوق محفوظ رہ سکتے ہیں لیکن اگر یہاں کی مختلف قو میں آپس میں کوئی فیصلہ کر لیں تو وہ اسے منظور کر لے گی۔میرے خیال میں حکومت کو چاہئے کہ اعلان کر دے کہ جنگ کے ختم ہونے کے ایک سال بعد ہندوستان کو درجہ نو آبادیات دے دیا جائے گا اور مختلف اقوام کے حقوق برطانوی حکومت ان قوموں کے ان نمائندوں سے مشوروں کے بعد جو اسے مشورہ دینے پر آمادہ ہوں خود مقرر کر دے گی۔ہاں اس سے پہلے پہلے اگر ہند و مسلمان کوئی متفقہ مطالبہ ہمارے سامنے لے آئیں گے تو اُسے مان لیا جائے گا۔یہ طریق دیانتدارانہ ہے اور حکومت کو چاہئے کہ اسے اختیار کرے۔اس اعلان کے نتیجہ میں یقیناً ہندو مسلمانوں کو مناسب سمجھوتہ کی طرف توجہ ہوگی ورنہ موجودہ وقت میں ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ آخر تنگ آ کر حکومت کچھ نہ کچھ دے دے گی اور وہ ڈیما کریسی کے اصول پر ہی ہوگا جس سے بہر حال ہندوؤں کو ہی فائدہ پہنچے گا اور مسلمان خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں اپنے گلے پر چھری کیوں پھیر ہیں۔وہ کیوں نہ زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کرنے کے لئے لڑتے رہیں تو اس طرح باہمی اختلاف کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جاتا ہے۔(الفضل ۹ ، ۱۹ ، ۱۷ جنوری۔۱۱،۱۰،۸ فروری ۱۹۴۲ء ) اب میں احباب کو مجلس انصار اللہ اور مجلس خدام الاحمدیہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جماعت کے احباب یا چالیس سال سے کم عمر کے ہیں یا چالیس سال سے زیادہ کے اور میں نے چالیس سال سے کم عمر والوں کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ اور زیادہ عمر والوں کے لئے مجلس انصار اللہ قائم کی ہے یا پھر عورتیں ہیں ان کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم ہے۔میری غرض ان تحریکات سے یہ ہے کہ جو قوم بھی اصلاح وارشاد کے کام میں پڑتی ہے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ اور لوگ ان کے ساتھ شامل ہوں اور یہ خواہش کہ اور لوگ جماعت میں شامل ہو جائیں جہاں جماعت کو عزت اور طاقت بخشتی ہے وہاں بعض اوقات