انوارالعلوم (جلد 16) — Page 274
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ خیال میں مبتلاء تھا مگر اسے بھی علم سمجھ کر لوگوں میں پھیلانا چاہتا تھا۔مگر تمہیں اتنے علوم سکھائے گئے ہیں پھر بھی تم سمجھتے ہو کہ تم عالم نہیں ہو۔کو نسا علم ہے جو قرآن کریم میں نہیں ؟ تم علم النفس اور دوسرے علوم کے وہ مسائل جو تمہیں سکھائے گئے ہیں دوسروں کو سناؤ تو بڑے بڑے عالم حیران ہو جائیں۔میں تو حیران ہوا کرتا ہوں کہ ایک احمدی کس طرح یہ سمجھ سکتا ہے کہ اسے کچھ نہیں آتا۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہر انسان پر فرشتے نازل ہوں؟ اور ہر انسان اسی صورت میں سمجھ سکتا ہے کہ اسے فرشتے سمجھانے کے لئے آئیں؟ جو علم نہیں رکھتے وہ دوسروں کے علوم سے کیوں فائدہ نہیں اُٹھاتے ؟ سلسلہ کی کتب اور اخبار ورسائل کیوں نہیں پڑھتے ؟ اور اس طرح علم حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ ہندوؤں میں تبلیغ یاد رکھو کہ ہمارے ذمہ دنیا کی فتح کا کام ڈالا گیا ہے اور یہ کام بہت اہم ہے۔اس کے لئے ایک بہت بڑی جماعت کی ضرورت ہے اور اس واسطے ہندوستان میں جماعت کا بڑھانا بہت ضروری ہے اور تبلیغ کرتے ہوئے غیر قوموں کی طرف خصوصیت سے توجہ کی ضرورت ہے۔اس ملک میں ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں کی نسبت تین گنا ہے۔صرف برطانوی ہندوستان کی آبادی ۳۳،۳۲ کروڑ ہے اور اس میں سے صرف تین چار ہزار کا سال بھر میں احمدی ہونا کوئی کام نہیں اس لئے تبلیغ کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بالخصوص ہمسایہ اقوام کے سامنے محبت اور پیار سے اسلام کو پیش کرنا چاہئے۔ان سے کہو کہ تم ہمیں تبلیغ کرو اپنی باتیں سناؤ اور ہماری سنو۔بعض علماء کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بات چیت کرنی ہو تو اپنا کوئی پنڈت یا گیانی لاؤ یہ ٹھیک نہیں۔ایسی باتوں کی وجہ سے ہی وہ گھبراتے ہیں اور بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔کھلے دل سے ان کی باتیں سنو اس میں گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ آخر کار وہ تمہارے ساتھ شامل ہونگے۔پانی ہمیشہ نیچے کی طرف ہی بہتا ہے تم بہت اونچے ہو اس لئے پانی انہیں کی طرف جائے گا اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہندو قوم کو ترقی دینا چاہتا ہے۔وہ تو چاہتا ہے کہ ان بنیوں کو دین کی حکومت عطا کرے مگر یہ لوگ سوراج کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اُس عزت سے بے پروا ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کو دینا چاہتا ہے اور جو اسلام کو قبول کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔احمدیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ تمام ہندوستانیوں کی عزت بڑھے گی۔عربوں نے ایک زمانہ میں اسلام کی خدمت کی تھی اور اس وجہ سے آج گو وہ ہر لحاظ سے گر چکے ہیں پھر بھی مسلمان ان کی خدمت کرتے ہیں۔جہاں کوئی عرب نظر آئے اُسے خوش آمدید کہتے ہیں اور کہتے ہیں