انوارالعلوم (جلد 16) — Page 266
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور خدا تعالیٰ کی توپ کا گولہ بہت دور تک مار کرتا ہے اور کبھی خطا نہیں جاتا۔دیکھو! اللہ تعالیٰ کی توپ کا گولہ گورداسپور سے لاہور پہنچا جو قریباً اسی میل کا فاصلہ ہے اور وہاں بھی اس نے گورنمنٹ کالج کی عمارت کو چنا اور اس میں جا کر عین اسی لڑکے پر گرا جس پر وہ پھینکا گیا تھا اور اسے ہلاک کر دیا۔تو دعا کی توپ کا گولہ کبھی خطا نہیں جاتا اور اگر اس کے باوجود ہم شستی کریں تو یہ بہت افسوس کی بات ہوگی۔دعا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب انسان دعا کرتا ہے تو اُس کے دل میں یقین بڑھتا ہے یہ ایک طبعی فائدہ ہے جو دعا سے حاصل ہوتا ہے۔جب ایک انسان کہتا ہے کہ خدایا! میری مدد کر تو اُس کے دل میں ایک یقین پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ میری مدد کر سکتا ہے اور اس طرح تو کل بڑھتا ہے اور وہ ایسے ایسے کام کر سکتا ہے جو دوسرا کوئی نہیں کر سکتا اور یہ طبعی فائدہ دعا کا ہوتا ہے۔جنگ کا ایک اور خطرناک اثر یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قحط پڑ جاتا ہے۔کچھ تو غلہ فوجوں کے لئے چلا جاتا ہے مگر کچھ پیسے چھپا لیتے ہیں تا گراں کر کے فروخت کرسکیں۔فرض کرو اس وقت ایک لاکھ ٹن باہر گیا ہے تو دس لاکھ ٹن بنیوں نے گھروں میں چھپا لیا ہے یہ کتنا خطرناک اثر جنگ کا ہے۔اور قحط ایک ایسی مصیبت ہے کہ چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر سب کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اس وقت غلہ بہت مہنگا ہو چکا ہے۔گو حکومت نے قیمت پر کنٹرول کیا ہے مگر یہ کافی نہیں میرے خیال میں گندم کا بھاؤ تیرہ سیر فی روپیہ کے قریب ہونا چاہئے۔یہ ایسا بھاؤ ہے کہ اس سے زمینداروں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔گندم تین روپے من ہونی چاہئے لیکن یہ اس وقت نہیں ہو سکتا یہ تو فصل نکلنے کے دنوں میں ہوسکتا ہے۔مگر حالت یہ ہے کہ جب تو زمینداروں کے ہاں غلہ ہو اس وقت بھاؤ دو، سوا دو روپیہ من ہوتا ہے لیکن جب بنیوں کے پاس چلا جاتا ہے تو اس وقت بھاؤ چار پانچ روپیہ من ہو جاتا ہے۔پس گندم کا بھاؤ تین روپیہ من مقرر ہونا چاہئے۔تا ۱۲ ۱۳ سیر روپیہ کا آٹا لوگوں کو مل سکے۔اب جو حکومت ہند نے گندم کی قیمت پر کنٹرول کیا تو پنجاب اسمبلی میں بعض زمیندار ممبروں نے سوال اُٹھایا کہ اس سے زمینداروں کو نقصان ہوگا۔یہ بات صرف بھیڑ چال کے طور پر اُٹھائی گئی ورنہ کون نہیں جانتا کہ آج کل زمینداروں کے گھروں میں غلہ کہاں ہوتا ہے؟ آج کل تو وہ بیج بھی بازار سے خرید کر ڈالتے ہیں۔تو یہ ایک خیالی بات تھی جو انہوں نے کہہ دی اور ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں۔کوئی گیدڑ بھاگا جا رہا تھا کسی نے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ