انوارالعلوم (جلد 16) — Page 265
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور تاڑ میں رہتے ہیں کہ ملک میں یا کسی شہر میں بدامنی ہو تو لوٹ مار کریں۔ اور غلط افواہوں کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ بعض دفعہ بے موقع ہی حملہ کر دیتے ہیں اور اگر غلط افواہوں کو روکا نہ جائے تو ہو سکتا ہے کہ کسی حقیقی خطرہ کا موقع آنے پر پہلے ہی کوئی حملہ کر دیں۔ پس لوگوں کو تسلی دینے اور حوصلے قائم رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ غلط افواہوں کو پھیلنے سے روکا جائے ۔ اس میں انگریزوں کا نہیں بلکہ اپنا ہی فائدہ ہے۔ ملک میں اگر بدامنی ہو تو اس کا فائدہ بدمعاشوں کو ہی ہوتا ہے شرفاء کو نہیں ہو سکتا ۔ بدمعاش ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ اگر کبھی دو بیوقوف ہندو اور مسلمان آپس میں لڑیں تو لوٹ مار شروع کر دیں ۔ پس ملک کے اندر ایسی روح پیدا کر دینی چاہئے کہ ان کے لئے ایسا موقع پیدا نہ ہوا اور انہیں فساد کرنے کے لئے بہانہ ہاتھ نہ آ سکے۔ ایک اور بات میں نے یہ کہی ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں ۔ دعاؤں کا ہتھیار بڑا کارگر ہتھیار ہے۔ اسے ہم ہی خوب سمجھتے ہیں دوسری کوئی قوم نہیں سمجھ سکتی ۔ ہم نے دعاؤں کے بڑے بڑے فائدے دیکھے ہیں اور یہ وہ ہتھیار ہے جو ہمارے سوا کوئی چلانا نہیں جانتا۔ بے شک ہم تھوڑے ہیں مگر ہماری مثال ایسی ہے جیسے فوج میں توپ خانہ ہوتا ہے ۔ انفنٹری اور فوج کی دوسری رجمنٹیں اگر شستی کریں تو اتنا حرج نہیں جتنا کہ توپ خانہ کی مستی سے ہو سکتا ہے۔ توپ خانہ اگر شستی کرے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ساری فوج ماری جائے ۔ پس ہم توپ خانہ کے افسر ہیں اور اگر ہم کو تا ہی کریں گے تو دنیا پر بڑی تباہی آئے گی ۔ توپ کی طرح دعا بھی بہت دور تک گولہ پھینکتی ہے اور ہمارے سامنے تو قبولیت دعا کے ایسے ایسے نمونے ہیں کہ ہم اس کی طاقت کا انکار نہیں کر سکتے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گورداسپور کے ایک ہندو مجسٹریٹ آتما رام نے سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کی موت کی خبر آپ کو دی ۔ دو چنانچہ ہمیں دن میں دولڑ کے اس کے مر گئے ۔“‘ ملے ایک لڑکا جو لاہور کے گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا ڈوب کر مر گیا۔ بیس بائیس سال ہوئے میں گاڑی میں جا رہا تھا کہ لدھیانہ کے سٹیشن پر وہ مجھے ملا اور کہا کہ لوگوں نے یونہی مرزا صاحب کو مجھ سے ناراض کر دیا اور مجھ سے کہا کہ آپ دعا کریں۔ اس کے دونو جوان لڑکے مر گئے اور اس کی بیوی ہمیشہ اسے یہی کہتی کہ یہ لڑکے تو نے ہی مارے ہیں ۔ تو یہ تو ہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ چلاتا ہے دوسری توپ تو ساٹھ ستر میل تک ہی مار کرتی ہے اور اس کے گولے خطا بھی جاتے ہیں مگر